اصحابِ فیل کا واقعہ اور ابرہہ کا لشکر
یمن کے گورنر ابرہہ نے ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبہ گرانے کی کوشش کی تو اللہ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے اسے عبرتناک شکست دی۔
سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے کچھ عرصہ پہلے پیش آیا۔ یمن میں ابرہہ نامی ایک عیسائی گورنر تھا جس نے دیکھا کہ عرب کے لوگ ہر سال کعبہ کی زیارت کے لیے مکہ جاتے ہیں۔ اسے حسد ہوا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مکہ پر حملہ کر کے کعبہ کو گرا دے گا تاکہ لوگ اس کے بنائے ہوئے گرجے کی طرف متوجہ ہوں۔ اسے یقین تھا کہ کعبہ کے گرنے کے بعد عرب کے لوگ اس کے گرجے کی طرف رجوع کریں گے اور اس کی بادشاہت کو تسلیم کریں گے۔ اس نے اس مقصد کے لیے ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا جس میں کئی ہاتھی شامل تھے۔
ابرہہ کا لشکر اور عبد المطلب کا جواب
جب یہ لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو مکہ کے لوگ خوفزدہ ہو کر پہاڑوں میں چھپ گئے۔ قریش کے سردار عبد المطلب جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے، ابرہہ کے پاس گئے۔ ابرہہ نے پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرے اونٹ جو تمہارے لشکر نے پکڑے ہیں وہ واپس کر دو۔ ابرہہ نے حیرت سے کہا کہ میں تو تمہارے کعبے کو گرانے آیا ہوں اور تم اونٹوں کی بات کرتے ہو۔ عبد المطلب نے تاریخی جملہ کہا کہ اونٹوں کا میں مالک ہوں اور اس گھر یعنی کعبہ کا بھی ایک مالک ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ واپس آ گئے اور لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پردے پکڑ کر اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ اپنے گھر کی حفاظت فرما۔
ہاتھی کا انکار اور ابابیل کا حملہ
جب لشکر نے مکہ کی طرف پیش قدمی کی تو سب سے بڑا ہاتھی بیٹھ گیا اور مکہ کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھایا۔ اسے مارا پیٹا گیا لیکن وہ نہ اٹھا، حالانکہ دوسری سمتوں میں دوڑنے لگتا تھا۔ اتنے میں اللہ کے حکم سے پرندوں کے جھنڈ یعنی ابابیل نمودار ہوئے۔ ہر پرندے کے پاس تین تین کنکریاں تھیں، ایک چونچ میں اور دو پنجوں میں۔ یہ کنکریاں پکی ہوئی مٹی کی تھیں۔ پرندوں نے لشکر پر ان کنکریوں کی بارش کر دی۔ ہر کنکری جس سپاہی یا ہاتھی کو لگتی اس کے جسم کو چھید کر نکل جاتی۔ پورا لشکر کھائے ہوئے بھس کی طرح ہو گیا۔ ابرہہ خود بھی زخمی ہوا اور یمن واپس جا کر عبرتناک موت مرا۔
عام الفیل کی اہمیت
اس واقعے کو عام الفیل یعنی ہاتھی والا سال کہا جاتا ہے اور اسی سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفیل میں فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا۔ کیا اس نے ان کی چال کو ناکام نہیں بنا دیا۔ اور ان پر ابابیل پرندے بھیجے جو ان پر پکی مٹی کی کنکریاں پھینکتے تھے، تو انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے گھر کی خود حفاظت فرماتا ہے اور ظالموں کی بڑی سے بڑی طاقت اس کے سامنے کچھ نہیں۔ مکہ کے لوگوں نے اس معجزے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اللہ کی قدرت پر ایمان لائے۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ طاقت اور لشکر اللہ کے ارادے کے سامنے بے بس ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کے گھر کی عزت اللہ خود فرماتا ہے، اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ ظلم اور تکبر کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ کریں اور ظالموں سے نہ ڈریں بلکہ حق پر قائم رہیں۔
MsWeb