قارون کے خزانے اور اس کے انجام کی کہانی

بے پناہ دولت پانے والے قارون کی کہانی جس نے تکبر کیا اور اللہ کی ناشکری کی، تو زمین اسے اس کے خزانوں سمیت نگل گئی۔

قارون کے خزانے اور اس کے انجام کی کہانی
قارون کے خزانے اور اس کے انجام کی کہانی

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کا ایک فرد تھا جسے اللہ نے بے پناہ دولت عطا فرمائی تھی۔ اس کے خزانے اتنے زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں اٹھانے کے لیے کئی طاقتور آدمی درکار ہوتے تھے۔ لیکن دولت نے اسے تکبر اور غرور میں مبتلا کر دیا اور وہ اللہ کی ناشکری کرنے لگا۔ اس کی کہانی سورۃ القصص میں بیان ہوئی ہے تاکہ لوگ جان لیں کہ دولت اللہ کی امانت ہے اور اس پر اترانا ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔

دولت کا نشہ اور تکبر

قارون اپنی دولت کی نمائش کرتا تھا۔ وہ قیمتی لباس پہن کر شان و شوکت کے ساتھ لوگوں میں نکلتا اور اپنے محلوں اور خزانوں پر فخر کرتا۔ لوگ اسے دیکھ کر رشک کرتے اور کہتے کہ کاش ہمیں بھی قارون جیسی دولت ملتی۔ قارون کا دعویٰ تھا کہ یہ دولت اسے اس کے علم اور ہنر کی وجہ سے ملی ہے۔ وہ کہتا تھا کہ مجھے یہ سب میرے علم کی بنا پر دیا گیا ہے۔ اس نے اللہ کی نعمت کو اپنی محنت کا نتیجہ قرار دیا اور اللہ کا شکر ادا کرنا چھوڑ دیا۔ وہ غریبوں کی مدد نہیں کرتا تھا اور زکوٰۃ دینے سے انکار کرتا تھا۔ اس کا تکبر بڑھتا گیا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نصیحتوں کو بھی ٹھکرانے لگا۔ دولت کے نشے نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا تھا۔

نیک لوگوں کی نصیحت

قوم کے نیک لوگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اس دولت پر اترانا مت، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کرو اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھولو۔ لوگوں کے ساتھ احسان کرو جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن قارون نے ان نصیحتوں پر کان نہ دھرے۔ اس نے کہا کہ یہ دولت میرے علم کی وجہ سے ملی ہے۔ کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ نے اس سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا جو اس سے زیادہ طاقتور اور زیادہ مالدار تھیں۔ اس کے تکبر نے اسے اندھا کر دیا تھا اور وہ نصیحت سننے کے لیے تیار نہ تھا۔

زمین میں دھنسنے کا عبرتناک انجام

ایک دن قارون اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ لوگوں میں نکلا۔ دنیا دار لوگ اسے دیکھ کر تمنا کرنے لگے کہ کاش ہمیں بھی ایسی دولت ملتی، لیکن علم والے کہنے لگے کہ افسوس تم پر، اللہ کا ثواب اس کے لیے بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ پھر اللہ کے حکم سے زمین پھٹ گئی اور قارون کو اس کے محلوں اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ نہ اس کے ساتھی اسے بچا سکے اور نہ وہ خود اپنی مدد کر سکا۔ جو لوگ کل اس کی جگہ کی تمنا کرتے تھے وہ کہنے لگے کہ افسوس، اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے۔ اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ اس طرح قارون کی دولت اس کے کسی کام نہ آئی۔

سبق

قارون کی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دولت اللہ کی امانت ہے، اس پر تکبر نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے اور غریبوں کی مدد کرنی چاہیے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ ناشکری اور تکبر کا انجام ہلاکت ہے، چاہے انسان کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں اور دولت کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔