حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بتوں کو توڑنا، نمرود سے مناظرہ اور آگ کا گلزار بن جانے کا عظیم واقعہ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا واقعہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کا واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کا لقب ملا یعنی اللہ کے خاص دوست۔ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی بت پرستی کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ ان کا نمرود بادشاہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ حق و باطل کے ٹکراؤ کی وہ عظیم داستان ہے جس میں آگ بھی اللہ کے حکم سے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی۔

بت خانے میں داخلہ اور بتوں کو توڑنا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم ستاروں، چاند، سورج اور بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نامی ظالم بادشاہ خود کو خدا کہتا تھا۔ حضرت ابراہیم نے قوم کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بت نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں اور نہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مگر قوم نہ مانی۔ ایک دن جب سب لوگ میلے میں گئے ہوئے تھے تو حضرت ابراہیم بت خانے میں داخل ہوئے۔ وہاں بڑے بڑے بت رکھے تھے جن کے سامنے کھانا بھی رکھا ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان سے کہا کہ تم کھاتے کیوں نہیں، تم بولتے کیوں نہیں۔ پھر انہوں نے کلہاڑی سے تمام بتوں کو توڑ ڈالا، صرف سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور کلہاڑی اس کے کندھے پر رکھ دی۔ جب لوگ واپس آئے تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔

قوم سے مکالمہ اور نمرود کے دربار میں پیشی

لوگوں نے پوچھا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سنا تھا جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو بلایا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ کام تو ان کے اس بڑے بت نے کیا ہے، اسی سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہیں۔ لوگ شرمندہ ہوئے اور آپس میں کہنے لگے کہ تم خود ظالم ہو۔ مگر پھر ان کی ہٹ دھرمی لوٹ آئی اور انہوں نے کہا کہ تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کیوں کرتے ہو جو تمہیں نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ اس کے بعد انہیں نمرود کے دربار میں پیش کیا گیا۔ نمرود نے تکبر سے پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ نمرود نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں، اور اس نے دو قیدیوں میں سے ایک کو چھوڑ دیا اور دوسرے کو قتل کر دیا۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔ نمرود حیران رہ گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔

آگ میں ڈالے جانے کا فیصلہ

نمرود اور اس کے درباری اس منطقی شکست سے بوکھلا گئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو زندہ جلا دیا جائے۔ انہوں نے ایک بہت بڑا گڑھا کھودا اور اس میں لکڑیاں بھر کر آگ لگا دی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ اس کے قریب جانا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے ایک منجنیق تیار کی اور حضرت ابراہیم کو اس میں باندھ کر آگ میں پھینک دیا۔ ہزاروں لوگ یہ منظر دیکھنے جمع تھے۔ مگر حضرت ابراہیم کے دل میں ذرہ برابر خوف نہ تھا۔ ان کا ایمان تھا کہ میرا رب مجھے بچا لے گا۔ روایت ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور پوچھا کہ کیا تمہیں کوئی حاجت ہے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ تم سے تو نہیں، مگر اللہ سے ہے۔ انہوں نے وہ عظیم کلمات کہے جو آج بھی ہر مصیبت زدہ کے لیے تسلی ہیں۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل یعنی ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

آگ کا گلزار بن جانا

اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ اے آگ، ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔ آگ فوراً گلزار بن گئی۔ حضرت ابراہیم اس میں بالکل محفوظ رہے، ان کا ایک بال بھی نہ جلا۔ جو رسیاں انہیں باندھنے کے لیے استعمال ہوئی تھیں وہ جل گئیں مگر ان کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ لوگ حیران رہ گئے۔ نمرود نے خود دیکھا کہ ابراہیم آگ کے درمیان بیٹھے اللہ کی حمد بیان کر رہے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت کی ایسی نشانی تھی جسے دیکھ کر کئی لوگ ایمان لے آئے۔ مگر نمرود اپنی سرکشی پر قائم رہا۔ بعد میں اللہ نے اسے ایک مچھر کے ذریعے ہلاک کیا جو اس کی ناک میں گھس گیا تھا۔ یہ ظالم بادشاہ جو خود کو خدا کہتا تھا، ایک حقیر مچھر کے ہاتھوں ذلیل ہو کر مرا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس آزمائش میں کامیاب ہوئے اور اللہ نے انہیں امامت کا عظیم مرتبہ عطا فرمایا۔

سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے واقعے سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حق بات کہنے میں کسی ظالم سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ بت پرستی اور شرک بے بنیاد عقیدہ ہے کیونکہ بت نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ تیسرا یہ کہ جو شخص اللہ پر کامل بھروسہ رکھتا ہے، اللہ اس کے لیے آگ کو بھی گلزار بنا دیتا ہے۔ چوتھا سبق یہ ہے کہ ظلم اور تکبر کا انجام ہمیشہ ذلت اور ہلاکت ہے، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ پانچواں یہ کہ مصیبت کے وقت حسبنا اللہ ونعم الوکیل پڑھنا بہترین عمل ہے۔