حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ
حضرت یونس علیہ السلام کا اپنی قوم کو چھوڑ کر جانا، سمندر میں مچھلی کے پیٹ میں قید ہونا اور اندھیروں میں کی گئی دعا کی قبولیت کا ایمان افروز واقعہ۔
حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نینوا کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا تھا۔ یہ قوم بت پرستی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ حضرت یونس نے برسوں تک انہیں اللہ کی توحید کی دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ ان کا یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع ہے اور سچی توبہ کرنے والے کو اللہ ضرور معاف فرماتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی گہری مصیبت میں کیوں نہ ہو۔
قوم کی نافرمانی اور حضرت یونس کا غصہ
حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو لمبے عرصے تک سمجھایا۔ انہوں نے بتوں کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ مگر قوم کے سرداروں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا کہ تم بھی ہم جیسے انسان ہو، ہم تمہاری بات کیوں مانیں۔ جب حضرت یونس نے انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے چیلنج کیا کہ لے آؤ وہ عذاب جس کی تم دھمکی دیتے ہو۔ حضرت یونس ان کی ہٹ دھرمی سے ناراض ہوئے اور اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر غصے میں بستی چھوڑ کر چل دیے۔ انہوں نے سمجھا کہ اللہ ان پر تنگی نہیں کرے گا۔ یہ ان سے ایک لغزش ہوئی کیونکہ پیغمبر کو اللہ کے حکم کے بغیر اپنی ذمہ داری نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔ وہ سمندر کے کنارے پہنچے اور مسافروں سے بھری ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔
سمندر میں طوفان اور قرعہ اندازی
کشتی سمندر میں روانہ ہوئی تو اچانک شدید طوفان آ گیا۔ لہریں کشتی کو ڈبونے لگیں۔ ملاحوں نے اپنا سامان سمندر میں پھینک دیا مگر کشتی ہلکی نہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جس کی وجہ سے یہ مصیبت آئی ہے۔ انہوں نے قرعہ ڈالا تو حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا۔ دوبارہ قرعہ ڈالا، پھر ان کا نام نکلا۔ تیسری بار بھی یہی ہوا۔ حضرت یونس سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی طرف سے اشارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سمندر میں ڈال دو، میں ہی وہ شخص ہوں جس کی وجہ سے یہ طوفان آیا ہے۔ لوگوں نے ہچکچاہٹ کے بعد انہیں سمندر میں ڈال دیا۔ فوراً طوفان تھم گیا اور سمندر پر سکون ہو گیا۔ مگر حضرت یونس کے لیے ایک نئی آزمائش شروع ہو چکی تھی۔
مچھلی کے پیٹ میں قید اور اندھیروں کی دعا
اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو نگل لیا۔ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے میں قید ہو گئے۔ یہ تین اندھیرے تھے۔ رات کا اندھیرا، سمندر کی گہرائیوں کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ ایسی حالت میں جہاں کوئی انسان مدد کو نہیں پہنچ سکتا تھا، حضرت یونس نے اللہ کو پکارا۔ انہوں نے وہ عظیم دعا کی جو آج دعائے یونس کے نام سے مشہور ہے۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین یعنی تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔ انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اللہ کی پاکی بیان کی۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ مچھلی انہیں کنارے پر اگل دے۔ مچھلی نے انہیں ایک ویران ساحل پر ڈال دیا۔ وہ بہت کمزور اور بیمار تھے۔ اللہ نے ان پر ایک بیل دار درخت اگا دیا جس کے سائے میں انہیں آرام ملا اور اس کے پھل سے انہیں غذا ملی۔
قوم کی توبہ اور اللہ کی رحمت
دوسری طرف نینوا میں حضرت یونس کے جانے کے بعد عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ آسمان سیاہ ہو گیا اور خوفناک آندھی چلنے لگی۔ قوم کو یقین ہو گیا کہ یونس سچے تھے اور عذاب آنے والا ہے۔ وہ سب میدان میں نکل آئے، اپنے بچوں اور جانوروں کو ساتھ لے کر اللہ کے حضور گڑگڑانے لگے۔ انہوں نے سچی توبہ کی اور ایمان لے آئے۔ اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔ یہ وہ واحد قوم ہے جس سے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کرنے پر عذاب ہٹا دیا گیا۔ جب حضرت یونس صحت یاب ہوئے تو اللہ نے انہیں دوبارہ اسی قوم کی طرف بھیجا۔ اس بار پوری قوم ایمان لا چکی تھی۔ حضرت یونس نے دیکھا کہ ان کی قوم اب اللہ کی عبادت کرتی ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اللہ نے انہیں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی ہدایت کا ذریعہ بنایا۔
سبق
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں کئی قیمتی سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ غصے میں آ کر اپنی ذمہ داری نہیں چھوڑنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ مصیبت میں صرف اللہ کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہی ہر مشکل سے نکالنے والا ہے۔ تیسرا یہ کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنا اور توبہ کرنا اللہ کو بہت پسند ہے۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں میں بھی اپنے بندے کی دعا سن لیتا ہے۔ پانچواں سبق یہ ہے کہ دعائے یونس ہر مصیبت زدہ کے لیے ایک عظیم ہتھیار ہے۔ جو شخص سچے دل سے توبہ کرتا ہے، اللہ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
MsWeb