حضرت شعیب علیہ السلام اور قومِ مدین کا واقعہ

ناپ تول میں کمی کرنے والی قوم مدین کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت اور ان کے انکار پر آنے والے عذاب کا واقعہ۔

حضرت شعیب علیہ السلام اور قومِ مدین کا واقعہ
حضرت شعیب علیہ السلام اور قومِ مدین کا واقعہ

حضرت شعیب علیہ السلام مدین کی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے لیکن ناپ تول میں کمی کرتے تھے، لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھاتے تھے اور راستوں پر بیٹھ کر راہزنی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا جنہیں ان کی فصیح و بلیغ گفتگو کی وجہ سے خطیب الانبیاء کہا جاتا ہے۔ ان کی دعوت کا مرکز تجارت میں ایمانداری اور اللہ کی عبادت تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ حلال روزی میں برکت ہے اور دھوکے کا مال کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔

ناپ تول میں انصاف کی دعوت

حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ میں تمہیں خوشحال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر ایک گھیرنے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ میں خود وہ کام کروں جس سے میں تمہیں روکتا ہوں۔ میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میری استطاعت ہے اور میری توفیق تو صرف اللہ سے ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ انہوں نے قوم کو پچھلی قوموں یعنی نوح، ہود، صالح اور لوط کی قوموں کے انجام سے ڈرایا اور کہا کہ ان کا انجام تم سے دور نہیں۔

انکار، مذاق اور دھمکیاں

قوم نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بات نہ مانی۔ انہوں نے کہا کہ اے شعیب، کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے معبودوں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کا تصرف نہ کریں۔ انہوں نے ان کا مذاق اڑایا اور طنزیہ کہا کہ تم تو بہت نرم مزاج اور سمجھدار ہو۔ پھر انہوں نے دھمکی دی کہ اے شعیب، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور تم ہمیں عزیز نہیں ہو۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ سے زیادہ عزیز ہے۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے، وہی ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔

چیخ اور زلزلے کا عذاب

جب قوم نے حد سے تجاوز کیا تو اللہ کا عذاب آیا۔ پہلے شدید گرمی پڑی، لوگ گھروں سے نکل کر سائے تلاش کرنے لگے۔ پھر ایک بادل سایہ دار نظر آیا، سب اس کے نیچے جمع ہو گئے۔ اچانک اس سے آگ برسی اور ایک زبردست چیخ آئی جس سے ان کے دل پھٹ گئے۔ ایک روایت کے مطابق زلزلے نے انہیں پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ اس طرح ناپ تول میں کمی کرنے والی قوم کا خاتمہ ہو گیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم، میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور تمہاری خیرخواہی کی، تو میں کافر قوم پر کیوں افسوس کروں۔ صرف حضرت شعیب علیہ السلام اور ایمان والے اللہ کی رحمت سے بچ گئے۔

سبق

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تجارت میں ایمانداری ضروری ہے اور ناپ تول میں کمی ایک بڑا دھوکہ ہے جس پر اللہ کا عذاب آ سکتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ مال میں اللہ کے احکام کی پابندی کرنی چاہیے اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے چاہئیں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ نبی کی تکذیب اور تکبر کا انجام ہلاکت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لین دین میں انصاف کریں اور حلال روزی کمائیں۔