حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری اور حکمت کے واقعات
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بے مثال بہادری اور گہری حکمت کے واقعات جن میں ہجرت کی رات اور فتح خیبر شامل ہیں۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ آپ کا بچپن نبی کریم ﷺ کے گھر میں گزرا اور آپ بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ آپ کی شخصیت میں بہادری اور علم و حکمت کا ایسا حسین امتزاج تھا جو تاریخ اسلام میں کم ہی نظر آتا ہے۔ میدان جنگ میں آپ کی تلوار کفار کے لیے قہر الٰہی تھی اور مجلس علم میں آپ کی حکمت و دانش صحابہ کرام کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ تھی۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ آپ کی پوری زندگی نوجوان مسلمانوں کے لیے بہادری، علم اور تقویٰ کا روشن نمونہ ہے۔
ہجرت کی رات نبی ﷺ کے بستر پر سونا
جب کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ ہجرت کی اس نازک رات میں نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ تم میری چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو جاؤ۔ یہ ایک ایسا حکم تھا جس میں موت کا واضح خطرہ تھا کیونکہ کفار صبح ہوتے ہی بستر پر سوئے ہوئے شخص کو قتل کرنے والے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلا جھجھک پوچھا کہ کیا اس سے آپ کی جان بچ جائے گی۔ جب نبی کریم ﷺ نے ہاں فرمایا تو آپ اطمینان سے بستر پر سو گئے۔ صبح جب کفار اندر داخل ہوئے تو بستر پر نبی ﷺ کی بجائے حضرت علی کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آپ کی اس بے مثال قربانی اور بہادری کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی سراہا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے کتنی محبت تھی کہ آپ نے اپنی جان کو آپ ﷺ کی جان پر قربان کر دیا۔
غزوہ خندق میں عمرو بن عبد ود کا مقابلہ
غزوہ خندق کے موقع پر کفار کا مشہور پہلوان عمرو بن عبد ود خندق پار کر کے مسلمانوں کے سامنے آیا اور للکارنے لگا کہ ہے کوئی جو میرا مقابلہ کرے۔ اس کی ہیبت سے صحابہ کرام خاموش رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تین بار مقابلے کے لیے اٹھے لیکن نبی کریم ﷺ نے پہلے انہیں روکا۔ جب کوئی اور آگے نہ بڑھا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دی اور اپنا عمامہ ان کے سر پر باندھا اور دعا فرمائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بہادری سے مقابلہ کیا اور عمرو بن عبد ود کو قتل کر دیا۔ اس عظیم کارنامے پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ علی کی اس ایک ضربت کا ثواب ثقلین یعنی جن و انس کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔ یہ واقعہ آپ کی بے مثال شجاعت کی روشن دلیل ہے۔
فتح خیبر اور قلعے کا دروازہ
غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں۔ صبح کو سب صحابہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جو اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگایا تو وہ فوراً صحت یاب ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی کے حوالے کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے مشہور پہلوان مرحب کو قتل کیا اور قلعے کا بھاری لوہے کا دروازہ اکھاڑ کر پھینک دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعد میں چالیس آدمی مل کر بھی اس دروازے کو ہلا نہ سکے۔ یہ آپ کی جسمانی قوت اور ایمانی جوش کا حیرت انگیز مظاہرہ تھا۔
علم و حکمت اور عدل کے فیصلے
حضرت علی رضی اللہ عنہ صرف میدان جنگ کے بہادر ہی نہیں بلکہ علم و حکمت کے سمندر بھی تھے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا تھا اور آپ کے فیصلے ہمیشہ عدل و انصاف پر مبنی ہوتے تھے۔ آپ کے مشہور اقوال میں سے ایک یہ ہے کہ ہر شخص کی قیمت وہ ہے جو وہ جانتا ہے یعنی علم ہی انسان کی اصل قدر ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ دنیا کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور علم مال سے بہتر ہے کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی تمہیں حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ آپ کے دور خلافت میں آپ کا عدل و انصاف مثالی تھا اور آپ امیر اور غریب سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔ آپ کی حکمت بھری باتیں آج بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
سبق
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی بہادری ایمان اور اللہ کی رضا کے لیے ہوتی ہے نہ کہ دکھاوے کے لیے۔ علم کے بغیر بہادری ناقص ہے اور بہادری کے بغیر علم بے اثر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جوانی کو علم دین کے حصول اور اللہ کی راہ میں بہادری کے ساتھ گزاریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نوجوانوں کے لیے اس بات کا روشن نمونہ ہیں کہ کم عمری میں بھی انسان ایمان، علم اور قربانی کے ذریعے تاریخ میں امر ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
MsWeb