ہجرتِ مدینہ کی مکمل کہانی

مکہ سے مدینہ کی ہجرت کی مکمل کہانی — بیعت عقبہ، حضرت علی کی قربانی، غار ثور کا قیام اور مدینہ میں شاندار استقبال۔

ہجرتِ مدینہ کی مکمل کہانی
ہجرتِ مدینہ کی مکمل کہانی

مکہ میں تیرہ سال تک رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ کفار نے بائیکاٹ کیا، راستوں میں کانٹے بچھائے اور نماز کی حالت میں تکلیف پہنچائی۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔ یہ ہجرت اسلامی تاریخ کا وہ عظیم موڑ ہے جس سے اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہوا اور ایک نئی ریاست کی بنیاد پڑی۔

مدینہ والوں کی دعوت اور بیعتِ عقبہ

حج کے موقع پر مدینہ کے قبیلے خزرج کے چھ افراد نے عقبہ کے مقام پر آپ ﷺ سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا۔ اگلے سال بارہ افراد آئے اور پہلی بیعت عقبہ ہوئی۔ آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ مدینہ بھیجا جنہوں نے وہاں قرآن کی تعلیم دی۔ اس کے اگلے سال تیہتر مردوں اور دو عورتوں نے دوسری بیعت عقبہ کی اور آپ ﷺ کی حفاظت کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا ہم آپ کو اپنے بال بچوں کی طرح محفوظ رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے۔ مدینہ اب اسلام کا مرکز بننے کے لیے تیار تھا۔

مسلمانوں کی خفیہ ہجرت اور قتل کی سازش

اجازت ملتے ہی مسلمان چھوٹے چھوٹے گروہوں میں خفیہ طور پر مدینہ کی طرف روانہ ہونے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلانیہ ہجرت کی اور کفار کو للکارا کہ جو اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہے وہ میرا پیچھا کرے۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے اپنا سارا مال مکہ میں چھوڑ کر ہجرت کی جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کچھ لوگ اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں۔ قریش گھبرا گئے کہ مدینہ میں ایک مضبوط اسلامی ریاست قائم ہو جائے گی۔

قریش کے سردار دار الندوہ میں جمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان مل کر رسول اللہ ﷺ کو قتل کرے تاکہ بنو ہاشم سب سے بدلہ نہ لے سکیں۔ حضرت جبرائیل نے آپ ﷺ کو اس سازش سے آگاہ کیا۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلا دیا اور اپنی چادر انہیں اوڑھا دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جان کی پرواہ کیے بغیر بستر پر لیٹ گئے۔ آپ ﷺ سورۃ یٰسین کی آیات پڑھتے ہوئے قاتلوں کے درمیان سے نکل گئے اور ان کی آنکھوں پر مٹی ڈال دی، وہ آپ کو دیکھ نہ سکے۔

سفر کی مکمل منصوبہ بندی

آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور دونوں رات کے وقت مکہ سے نکل کر جنوب کی طرف غار ثور میں چھپ گئے۔ تین راتیں وہاں قیام کیا۔ حضرت ابوبکر کے بیٹے عبد اللہ دن کو مکہ میں خبریں سنتے اور رات کو غار میں پہنچاتے۔ ان کی بیٹی حضرت اسماء کھانا پہنچاتیں۔ عامر بن فہیرہ بکریاں چرا کر قدموں کے نشان مٹا دیتے۔ تین دن بعد عبد اللہ بن اریقط نامی ماہر رہنما دو اونٹنیاں لے کر آیا اور ساحلی راستے سے مدینہ کی طرف روانگی ہوئی۔ یہ منصوبہ بندی بتاتی ہے کہ اللہ پر توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنا بھی سنت ہے۔

مدینہ میں شاندار استقبال

آٹھ دن کے سفر کے بعد آپ ﷺ قباء پہنچے جہاں مدینہ کے مسلمان استقبال کے لیے آئے تھے۔ آپ نے وہاں چودہ دن قیام کیا اور مسجد قباء تعمیر کی جو اسلام کی پہلی مسجد ہے اور جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ پھر آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے۔ آپ کی اونٹنی قصواء حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی اور آپ وہیں مہمان ٹھہرے۔ راستے میں بنو سالم کے محلے میں پہلا جمعہ ادا کیا۔ پھر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہوئی جس میں آپ ﷺ خود اینٹیں اٹھاتے تھے۔ آپ نے مہاجرین و انصار میں مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کیا اور میثاق مدینہ کے ذریعے ایک منظم ریاست کی بنیاد رکھی۔

سبق

ہجرت مدینہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی خاطر گھر بار اور مال چھوڑ دینا ایمان کی علامت ہے۔ منصوبہ بندی اور احتیاط اللہ پر توکل کے منافی نہیں۔ حضرت علی کی قربانی، حضرت اسماء کی خدمت اور انصار کی مہمان نوازی ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام قربانی، خدمت اور بھائی چارے کا دین ہے۔ مدینہ کی ریاست عدل و مساوات پر قائم ہوئی، اور آج بھی مسلمانوں کو اپنے معاشرے میں انہی اصولوں کو اپنانا چاہیے۔}