غارِ حرا میں پہلی وحی کا واقعہ

غار حرا میں حضرت جبرائیل کی آمد، پہلی وحی اقرأ کے نزول، حضرت خدیجہ کی تسلی اور ورقہ بن نوفل سے ملاقات کا ایمان افروز واقعہ۔

غارِ حرا میں پہلی وحی کا واقعہ
غارِ حرا میں پہلی وحی کا واقعہ

حضرت محمد ﷺ چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو آپ ﷺ کا معمول بن گیا تھا کہ رمضان کے مہینے میں مکہ سے تین میل دور جبل نور کی چوٹی پر واقع غار حرا میں تنہائی میں عبادت اور غور و فکر کے لیے جایا کرتے تھے۔ اس عبادت کو تحنث کہا جاتا تھا۔ آپ ﷺ کئی کئی دن وہاں رہتے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے لیے کھانا پہنچاتیں۔ آپ بت پرستی سے نفرت کرتے تھے اور کائنات کے خالق کے بارے میں غور کرتے تھے۔ اسی غار میں وہ عظیم رات آئی جس نے انسانی تاریخ بدل دی۔

غارِ حرا میں تنہائی اور غور و فکر

غار حرا جبل نور کی چوٹی پر ایک چھوٹی سی غار ہے جہاں سے خانہ کعبہ نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ وہاں دن رات اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے، مخلوق کی بے بسی اور خالق کی قدرت پر غور کرتے۔ آپ کا دل بتوں کی پوجا سے بیزار تھا اور آپ حق کی تلاش میں تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کی اس تنہائی کا احترام کرتیں اور ضرورت کا سامان پہنچاتیں۔ یہی وہ تیاری تھی جو اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول کو نبوت کے عظیم بوجھ کے لیے کرا رہا تھا۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد اور پہلی وحی

رمضان کی ایک رات، جسے اکثر علماء شب قدر قرار دیتے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی شکل میں غار میں داخل ہوئے اور فرمایا اقرأ یعنی پڑھیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ جبرائیل نے آپ کو زور سے بھینچا یہاں تک کہ آپ کو تکلیف محسوس ہوئی، پھر چھوڑ کر دوبارہ فرمایا اقرأ۔ تین مرتبہ یہی ہوا، پھر جبرائیل نے سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات پڑھیں جن کا مفہوم ہے کہ پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ آپ ﷺ کانپتے ہوئے گھر آئے اور فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دو۔

حضرت خدیجہ کی تسلی اور ورقہ بن نوفل

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے وہ تاریخی الفاظ کہے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ فرمایا اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ پھر وہ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو انجیل کے عالم تھے۔ ورقہ نے سارا واقعہ سن کر کہا یہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ کاش میں اس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔ آپ ﷺ نے حیرت سے پوچھا کیا وہ مجھے نکالیں گے۔ ورقہ نے کہا ہاں، جو بھی یہ پیغام لایا اس سے دشمنی کی گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔

وحی میں وقفہ اور تبلیغ کا آغاز

پہلی وحی کے بعد کچھ عرصہ وحی نازل نہ ہوئی، اس وقفے کو فترۃ الوحی کہتے ہیں۔ ایک دن آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل کو آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھے دیکھا تو گھبرا کر گھر آئے اور فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو۔ اس پر سورۃ المدثر کی آیات نازل ہوئیں جن میں تبلیغ کا حکم دیا گیا۔ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایمان لائیں، پھر آپ کے گھر میں پرورش پانے والے بچے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے۔ اس طرح اسلام کی دعوت کا آغاز ہوا جو پہلے خفیہ طور پر دار ارقم میں ہوتی رہی۔

سبق

غار حرا کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام کی بنیاد علم پر ہے، کیونکہ پہلا حکم اقرأ یعنی پڑھیے کا تھا۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مثال ہمیں بتاتی ہے کہ مشکل وقت میں شریک حیات کا ساتھ کتنی بڑی نعمت ہے۔ ورقہ بن نوفل کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کی دعوت میں آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن صبر کرنے والا ہی کامیاب ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی پہلی وحی کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں اور علم کے ذریعے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں۔