غزوۂ اُحد سے ملنے والے اہم سبق
غزوہ احد میں تیر اندازوں کی غلطی، حضرت حمزہ کی شہادت اور اس جنگ سے ملنے والے اطاعت و صبر کے اہم سبق۔
غزوۂ بدر کی شکست کے بعد قریش انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ ہجرت کے تیسرے سال شوال کے مہینے میں ابو سفیان تین ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوا۔ رسول اللہ ﷺ سات سو صحابہ کے ساتھ احد پہاڑ کے دامن میں مقابلے کے لیے نکلے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو ایک عارضی شکست کا سامنا کرنا پڑا جس میں امت کے لیے بہت بڑے سبق پوشیدہ ہیں۔
جنگ کی تیاری اور تیر اندازوں کی ذمہ داری
آپ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی تلوار میں شگاف پڑ گیا ہے جس کی تعبیر احد میں نقصان تھی۔ مشورے کے بعد مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ ہوا۔ راستے میں عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو منافقوں کے ساتھ واپس لوٹ گیا۔ آپ ﷺ نے احد پہاڑ کے ایک درے پر حضرت عبد اللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پچاس تیر انداز مقرر کیے اور سخت حکم دیا کہ چاہے تم دیکھو کہ پرندے ہمیں نوچ رہے ہیں، تب بھی اپنی جگہ سے نہ ہلنا۔ یہ حکم جنگ کا فیصلہ کن نکتہ تھا۔
ابتدا میں مسلمانوں کی فتح
جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں نے بہادری کے جوہر دکھائے۔ حضرت حمزہ، حضرت علی اور حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہم نے کفار کی صفوں کو چیر ڈالا۔ کفار میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے اور ان کا سامان مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ فتح یقینی ہے۔ لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب امتحان شروع ہوا۔ مال غنیمت دیکھ کر تیر اندازوں کے قدم ڈگمگا گئے۔
حکم کی خلاف ورزی اور جنگ کا پلٹ جانا
تیر اندازوں کی اکثریت نے حضرت عبد اللہ بن جبیر کی ممانعت کے باوجود درہ چھوڑ دیا اور مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ خالد بن ولید جو اس وقت کفار کی طرف سے تھے، اپنے سوار دستے کے ساتھ خالی درے سے گھوم کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ آور ہوئے۔ مسلمانوں میں افراتفری پھیل گئی اور یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ اسی جنگ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو وحشی کے نیزے سے شہید کیا گیا اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ علم اٹھائے ہوئے شہید ہوئے۔ آپ ﷺ زخمی ہوئے، آپ کا دندان مبارک شہید ہوا اور خود کی کڑیاں رخسار میں پیوست ہو گئیں۔
صحابہ کی وفاداری اور کفار کی واپسی
اس نازک وقت میں صحابہ نے آپ ﷺ کے گرد انسانی ڈھال بنا لی۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو بچاتے ہوئے اپنا ہاتھ شل کرا لیا۔ حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا تلوار لے کر لڑتی رہیں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تیر چلاتے رہے اور آپ ﷺ فرماتے رہے کہ اے سعد، تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان۔ آخرکار مسلمان پہاڑ کی گھاٹی میں جمع ہو گئے۔ ابو سفیان نے نعرہ لگایا کہ ہبل بلند ہو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ سب سے بلند اور بزرگ ہے۔ کفار واپس چلے گئے۔
سبق
غزوۂ احد سے ہمیں یہ اہم سبق ملتے ہیں کہ قائد کے حکم کی خلاف ورزی کا نتیجہ نقصان ہوتا ہے، چاہے فتح کتنی ہی قریب کیوں نہ ہو۔ دنیا کی محبت اور مال کی حرص ایمان کو کمزور کرتی ہے۔ آزمائشیں مومنوں کو نکھارتی ہیں اور منافقوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں تاکہ ایمان والوں کو پہچانا جائے۔ اس جنگ کے شہداء میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سید الشہداء کے لقب سے مشہور ہوئے جن کی قربانی رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے عزم و حوصلے کی مثال رہے گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اپنے قائد کی اطاعت کریں اور دنیاوی لالچ سے بچیں۔}
MsWeb