صلح حدیبیہ کی مکمل کہانی
حدیبیہ کے مقام پر دس سالہ صلح، بیعت رضوان اور وہ معاہدہ جو بظاہر نقصان مگر حقیقت میں اسلام کی کھلی فتح ثابت ہوا۔
ہجرت کے چھٹے سال ذی قعدہ کے مہینے میں رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ صحابہ کے ساتھ عمرہ ادا کر رہے ہیں۔ اس خواب کی بنیاد پر آپ چودہ سو صحابہ کے ساتھ احرام باندھ کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ ستر قربانی کے اونٹ بھی تھے جو اس بات کی علامت تھی کہ آپ جنگ کے لیے نہیں بلکہ عمرے کے لیے آئے ہیں۔
حدیبیہ میں قیام اور قریش کی رکاوٹ
جب قافلہ حدیبیہ کے مقام پر پہنچا تو آپ ﷺ کی اونٹنی قصواء بیٹھ گئی اور آگے نہ بڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہاتھیوں کو روکا تھا اسی نے اسے روکا ہے۔ قریش نے خالد بن ولید کو دستے کے ساتھ بھیجا تاکہ مسلمان مکہ میں داخل نہ ہو سکیں۔ آپ ﷺ نے وہیں پڑاؤ ڈال دیا۔ قریش کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور عروہ بن مسعود مذاکرات کے لیے آئے۔ عروہ نے صحابہ کی آپ ﷺ سے محبت دیکھ کر کہا کہ میں نے قیصر و کسرٰی کے دربار دیکھے ہیں لیکن ایسی محبت کہیں نہیں دیکھی۔
حضرت عثمان کا مشن اور بیعتِ رضوان
آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا تاکہ قریش کو یقین دلائیں کہ مسلمان صرف عمرے کے لیے آئے ہیں۔ وہاں یہ افواہ پھیل گئی کہ حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر سن کر آپ ﷺ نے ایک درخت کے نیچے صحابہ سے موت پر بیعت لی جسے بیعت رضوان کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک اللہ ان مومنوں سے راضی ہوا جو درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے۔ اس بیعت میں شریک تمام صحابہ کے لیے جنت کی بشارت دی گئی۔
معاہدے کی شرائط
قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو مذاکرات کے لیے آیا۔ دس سالہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ طے پایا کہ مسلمان اس سال واپس جائیں گے اور اگلے سال تین دن کے لیے عمرہ کریں گے۔ جو شخص مکہ سے مسلمان ہو کر مدینہ آئے گا اسے واپس کیا جائے گا لیکن جو مدینہ سے مکہ جائے گا اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ معاہدہ لکھتے وقت سہیل نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی جگہ باسمک اللھم اور محمد رسول اللہ کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھنے پر اصرار کیا جسے آپ ﷺ نے قبول کر لیا۔ اسی دوران سہیل کا بیٹا ابو جندل بیڑیوں میں جکڑا ہوا آیا اور مسلمانوں سے مدد مانگی لیکن معاہدے کے تحت اسے واپس کرنا پڑا۔ آپ ﷺ نے اسے تسلی دی کہ اللہ تمہارے لیے کوئی راستہ نکالے گا۔
صحابہ کی آزمائش اور فتح کی بشارت
بظاہر یہ شرائط مسلمانوں کے خلاف لگ رہی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم حق پر نہیں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا۔ واپسی پر سورۃ الفتح نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ قربانی کر کے سر منڈوائیں۔ پہلے کوئی نہ اٹھا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مشورے پر آپ خود اٹھے اور قربانی کی، پھر سب نے ایسا ہی کیا۔
سبق
صلح حدیبیہ ہمیں سکھاتی ہے کہ صبر اور دور اندیشی ہی اصل فتح ہے۔ بظاہر نقصان دہ نظر آنے والا معاہدہ اسلام کی سب سے بڑی فتح ثابت ہوا کیونکہ امن کے دو سالوں میں اسلام اتنا پھیلا کہ فتح مکہ کے وقت دس ہزار کا لشکر تیار تھا۔ قائد کی اطاعت چاہے فیصلہ سمجھ میں نہ آئے، کامیابی کی کنجی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے صبر اور حکمت سے کام لیں۔
MsWeb