Hazrat Musa (A.S) Aur Hazrat Khizar Ka Waqia — Kashti, Ladka Aur Deewar Ke Teen Raaz
Hazrat Musa (A.S) aur Hazrat Khizar ka waqia: kashti me surakh, ladkay ka qatl aur girti deewar ke peeche kya raaz tha? Surah Al-Kahf ki mukammal kahani parhein.
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کا واقعہ — کشتی، لڑکا اور دیوار کا راز
فیس بک پر آپ نے پڑھا کہ ایک شخص نے کشتی میں سوراخ کر دیا، ایک لڑکے کو جان سے مار دیا اور گرتی ہوئی دیوار مفت میں بنا دی... اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ہر بار حیران رہ گئے۔ یہ شخص حضرت خضر علیہ السلام تھے، اور یہ مکمل واقعہ قرآن مجید کی سورۃ الکہف (آیت 60 تا 82) میں بیان کیا گیا ہے۔ آئیے پوری کہانی شروع سے پڑھتے ہیں۔
سب سے بڑے عالم کی تلاش
ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ نہیں، ہمارا ایک بندہ ہے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ (مجمع البحرین) پر رہتا ہے، وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: یا اللہ! میں اس تک کیسے پہنچوں؟ ارشاد ہوا کہ ایک ٹوکری میں مچھلی رکھ لو، جہاں وہ مچھلی غائب ہو جائے، وہیں وہ بندہ ملے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے خادم یوشع بن نون کو ساتھ لے کر سفر پر نکل پڑے۔ چلتے چلتے ایک پتھر کے پاس رُک کر آرام کرنے لگے۔ وہاں وہ مچھلی، جو مردہ تھی، زندہ ہو کر عجیب طریقے سے سمندر میں چلی گئی۔ یوشع یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے مگر بتانا بھول گئے۔ دونوں آگے بڑھ گئے۔ جب بھوک لگی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کھانا مانگا۔ تب یوشع کو یاد آیا کہ مچھلی تو پیچھے پتھر کے پاس ہی سمندر میں چلی گئی تھی — اور یہی نشانی تھی۔ دونوں واپس اسی جگہ آئے تو وہاں وہ بندہ موجود تھا جس کا نام روایت میں حضرت خضر بیان کیا جاتا ہے۔
ایک شرط پر سفر
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ نے آپ کو عطا کیا ہے؟ حضرت خضر نے فرمایا: تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وعدہ کیا کہ اللہ نے چاہا تو میں صبر کروں گا اور آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر نے ایک شرط رکھی: اگر میرے ساتھ چلنا ہے تو کسی چیز پر مجھ سے سوال نہ کرنا، یہاں تک کہ میں خود اس کی وجہ نہ بتا دوں۔
پہلا عجیب کام — کشتی میں سوراخ
سفر شروع ہوا۔ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی والے نے انہیں پہچان کر بغیر کرایہ لیے پار لگایا۔ مگر جب کشتی چل پڑی تو حضرت خضر نے اس کا ایک تختہ اکھاڑ دیا، جس سے کشتی میں سوراخ ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے رہا نہ گیا: ”آپ نے کشتی میں سوراخ کر دیا تاکہ سوار ڈوب جائیں؟ یہ تو بہت بڑی بات کر دی آپ نے!“ حضرت خضر نے فرمایا: ”میں نے کہا نہیں تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معذرت کی کہ میں وعدہ بھول گیا تھا، اس پر مجھے نہ پکڑیں۔
دوسرا عجیب کام — لڑکے کا قتل
کشتی سے اتر کر آگے چلے تو ایک لڑکا دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر نے اس لڑکے کو جان سے مار دیا۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام سخت حیران اور ناراض ہوئے: ”آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی قصور کے مار دیا؟ یہ تو بہت برا کام کیا آپ نے!“ حضرت خضر نے پھر یاد دلایا: ”میں نے کہا تھا نا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر اس کے بعد میں نے کوئی سوال پوچھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا۔
تیسرا عجیب کام — گرتی دیوار مفت میں
پھر دونوں ایک بستی میں پہنچے۔ بھوک لگی ہوئی تھی، مگر بستی والوں نے کھانا کھلانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس بستی میں ایک دیوار تھی جو گرنے کے قریب تھی۔ حضرت خضر نے اسے سیدھا اور مضبوط بنا دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان لوگوں نے ہمیں کھانا تک نہیں دیا، آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔ بس یہ تیسرا سوال تھا — حضرت خضر نے فرمایا: ”اب یہ میری اور تمہاری جدائی کا وقت ہے۔ مگر جانے سے پہلے میں تمہیں ان باتوں کی اصل حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔“
تینوں رازوں سے پردہ اٹھتا ہے
پھر حضرت خضر نے ایک ایک کر کے تینوں راز کھولے:
کشتی کا راز: وہ کشتی چند غریب مسکینوں کی تھی جو سمندر میں کام کر کے روزی کماتے تھے۔ ان کے آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر اچھی اور ٹھیک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔ میں نے کشتی کو جان بوجھ کر تھوڑا سا عیب دار کر دیا تاکہ بادشاہ اسے دیکھ کر چھوڑ دے اور غریبوں کی روزی محفوظ رہ جائے۔
لڑکے کا راز: اس لڑکے کے ماں باپ مومن اور نیک تھے۔ ہمیں یہ اندیشہ تھا کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر سرکش اور کافر بنے گا اور اپنی سرکشی اور کفر سے اپنے نیک ماں باپ کو بھی تنگ کرے گا اور انہیں گمراہی کی طرف دھکیلے گا۔ تو ہم نے چاہا کہ اللہ ان کو اس کے بدلے میں ایسی اولاد عطا فرمائے جو اس سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ محبت کرنے والی ہو۔ (روایت میں آتا ہے کہ اللہ نے ان کو ایک بیٹی عطا فرمائی، جس کی نسل سے کئی انبیا پیدا ہوئے۔)
دیوار کا راز: یہ دیوار شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی، اور اس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔ ان کا والد ایک نیک آدمی تھا۔ اللہ نے چاہا کہ دونوں بچے جوان ہو کر اپنا خزانہ خود نکال لیں۔ اگر دیوار ابھی گر جاتی تو خزانہ ظاہر ہو جاتا اور بچے اس سے محروم رہ جاتے۔
یہ سب کچھ میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا، بلکہ اللہ کے حکم اور اس کی رحمت سے کیا۔
اس واقعے کا سبق
اس واقعے سے ہمیں زندگی کا ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے: ہر وہ بات جو ظاہر میں نقصان اور تکلیف نظر آتی ہے، ضروری نہیں کہ اصل میں بھی ویسی ہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہماری سمجھ سے کہیں بڑی ہے۔ کشتی کا سوراخ غریبوں کی حفاظت تھا، اور دیوار کی مرمت یتیموں کے خزانے کی حفاظت۔ اسی طرح ہماری زندگی میں آنے والی پریشانیوں کے پیچھے بھی کئی دفعہ ایسی خیر چھپی ہوتی ہے جو ہمیں وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔
صبر اور اللہ کی حکمت پر بھروسا ہی اس کہانی کا اصل پیغام ہے۔
MsWeb