حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کے واقعات

حضرت عمر فاروق کے عدل و انصاف کے مشہور واقعات — اسلام قبول کرنا، دس سالہ خلافت، فتوحات اور شہادت کی کہانی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کے واقعات
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کے واقعات

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے اور آپ کا دور خلافت دس سال پر محیط تھا۔ آپ کو فاروق کا لقب ملا یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا۔ آپ کے عدل و انصاف کے واقعات آج بھی دنیا بھر میں سنائے جاتے ہیں۔ آپ کی زندگی طاقت کے ساتھ نرمی اور عدل کے ساتھ خوف خدا کی بہترین مثال ہے۔

اسلام قبول کرنے کا حیرت انگیز واقعہ

نبوت کے چھٹے سال حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے تین دن بعد حضرت عمر تلوار لے کر رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے نکلے۔ راستے میں کسی نے بتایا کہ تمہاری بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید مسلمان ہو چکے ہیں۔ آپ غصے میں ان کے گھر گئے جہاں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ انہیں قرآن پڑھا رہے تھے۔ آپ نے بہن کو مارا جس سے ان کا چہرہ زخمی ہو گیا۔ بہن نے کہا کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں، جو کرنا ہے کر لو۔ یہ سن کر آپ کا دل نرم پڑا اور انہوں نے سورۃ طٰہٰ کی آیات پڑھیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ دار ارقم گئے اور کلمہ پڑھ لیا۔ اس کے بعد مسلمان پہلی بار کھلے عام خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے لگے۔

عدل و انصاف کے مشہور واقعات

ایک رات آپ مدینہ میں گشت کر رہے تھے تو ایک عورت کو دیکھا جو ہانڈی میں پتھر ابال رہی تھی تاکہ بھوکے بچے سو جائیں۔ آپ فوراً بیت المال گئے اور آٹے اور گھی کا تھیلا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لائے۔ خادم نے عرض کیا کہ میں اٹھا لیتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرا بوجھ بھی تم اٹھاؤ گے۔ مصر میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے ایک قبطی کو مارا تو وہ شکایت لے کر مدینہ آیا۔ آپ نے عمرو بن العاص کو مصر سے بلوایا اور فرمایا کہ تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنایا ہے حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر عراق میں ایک خچر بھی ٹھوکر کھائے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔

فتوحات اور انتظامی اصلاحات

آپ کے دور میں یرموک اور قادسیہ کی عظیم جنگوں میں روم و ایران کی طاقتیں شکست کھا گئیں اور بیت المقدس فتح ہوا۔ آپ خود بیت المقدس تشریف لے گئے اور وہاں کے عیسائیوں کو امن کی ضمانت دی۔ جب نماز کا وقت ہوا تو آپ نے گرجا گھر میں نماز پڑھنے سے انکار کر دیا تاکہ بعد میں کوئی مسلمان اسے مسجد نہ بنا لے۔ آپ نے ہجری کیلنڈر جاری کیا، بیت المال کا نظام قائم کیا، قاضی مقرر کیے اور فوج کے لیے دیوان یعنی رجسٹر بنوایا۔ آپ سادہ لباس پہنتے اور درخت کے نیچے سو جاتے تھے۔ ایران کا قاصد آپ کو اس حالت میں دیکھ کر حیران رہ گیا۔

شہادت

تیئیس ہجری میں ابو لؤلؤہ نامی ایک فارسی غلام نے فجر کی نماز میں آپ پر خنجر سے حملہ کیا۔ آپ شدید زخمی ہوئے اور چند دن بعد شہید ہو گئے۔ آپ کو رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ کاش میں اس دنیا سے اس طرح جاؤں کہ نہ مجھ پر کوئی گناہ ہو اور نہ کوئی اجر۔ آپ کی شہادت پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آج اسلام کا ایک مضبوط ستون گر گیا۔

سبق

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل طاقت عدل میں ہے اور عدل کا سرچشمہ اللہ کا خوف ہے۔ حکمران عوام کا خادم ہوتا ہے، آقا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہر کام میں انصاف کریں، غریبوں کا خیال رکھیں اور طاقت ملنے پر تکبر کے بجائے عاجزی اختیار کریں۔ آپ کی زندگی ہر حکمران اور ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔