حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی اسلام قبول کرنے کی کہانی
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے حق کی تلاش میں طویل سفر اور اسلام قبول کرنے کی حیرت انگیز کہانی۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فارس کے علاقے اصفہان کے رہنے والے تھے۔ آپ کا اصل نام ماہ بہ بن بوذخشان تھا اور آپ ایک آتش پرست خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد اپنے علاقے کے بڑے زمیندار تھے اور آپ کو بہت عزیز رکھتے تھے۔ لیکن آپ کے دل میں ہمیشہ سے حق کی تلاش کا جذبہ تھا۔ آپ نے سچائی کی خاطر اپنا گھر، اپنا وطن اور اپنی آزادی تک قربان کر دی اور ایک طویل اور کٹھن سفر کے بعد مدینہ منورہ پہنچ کر اسلام قبول کیا۔ آپ کی زندگی حق کی تلاش میں نکلنے والوں کے لیے ایک روشن مینار ہے۔
حق کی تلاش میں طویل سفر
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جوانی میں ایک عیسائی عبادت گاہ کے پاس سے گزرے تو ان کی عبادت سے متاثر ہوئے۔ آپ نے اپنے والد سے اجازت لے کر عیسائیت اختیار کر لی لیکن آپ کے والد نے آپ کو قید کر دیا۔ آپ کسی طرح نکل کر شام چلے گئے اور وہاں ایک نیک راہب کی خدمت میں رہنے لگے۔ اس راہب کی وفات کے بعد آپ ایک کے بعد دوسرے راہب کے پاس جاتے رہے۔ ہر راہب اپنی وفات کے وقت آپ کو اگلے نیک شخص کا پتہ بتاتا۔ آخری راہب نے آپ کو بتایا کہ اب کسی نیک شخص کا زمانہ نہیں رہا لیکن عرب کی سرزمین میں ایک نبی کے ظہور کا وقت قریب ہے جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوگا۔ اس نے آپ کو اس نبی کی تین نشانیاں بتائیں کہ وہ صدقہ نہیں کھاتا، تحفہ قبول کرتا ہے اور اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔
دھوکے سے غلامی اور مدینہ آمد
آخری راہب کی وصیت کے بعد حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے عرب جانے والے ایک قافلے سے بات کی کہ وہ انہیں عرب پہنچا دیں۔ لیکن قافلے والوں نے دھوکا دیا اور آپ کو غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ وہ یہودی آپ کو مدینہ لے آیا۔ ایک دن آپ کھجور کے درخت پر کام کر رہے تھے کہ آپ نے اپنے آقا کو کسی سے یہ کہتے سنا کہ مدینہ میں ایک شخص آیا ہے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ سنتے ہی آپ خوشی سے کانپنے لگے اور درخت سے گرنے کے قریب ہو گئے۔ آپ نے جلدی سے درخت سے اتر کر تفصیل پوچھی تو آپ کے آقا نے آپ کو ڈانٹا۔ لیکن آپ کے دل میں امید کی شمع روشن ہو چکی تھی کہ شاید یہی وہ نبی ہیں جن کی تلاش میں آپ نے اتنا طویل سفر کیا تھا۔
نشانیوں کی تصدیق اور اسلام قبول کرنا
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق کے لیے راہب کی بتائی ہوئی نشانیاں آزمانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے آپ کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوئے اور کہا کہ یہ صدقہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کھاؤ لیکن خود نہ کھایا۔ اس سے پہلی نشانی پوری ہو گئی۔ پھر آپ کھجوریں لے کر آئے اور کہا کہ یہ تحفہ ہے تو نبی کریم ﷺ نے خود بھی کھائیں۔ اس سے دوسری نشانی پوری ہو گئی۔ تیسری نشانی مہر نبوت دیکھنے کے لیے آپ ایک دن نبی کریم ﷺ کے پیچھے گھومنے لگے۔ نبی کریم ﷺ سمجھ گئے اور اپنی چادر ہٹا دی۔ مہر نبوت دیکھتے ہی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے لپٹ گئے اور زار و قطار رونے لگے۔ پھر آپ نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ کی آزادی کے لیے صحابہ کرام نے رقم جمع کی اور نبی کریم ﷺ نے خود کھجور کی گٹھلیاں لگا کر آپ کی مکاتبت کی رقم ادا کرنے میں مدد فرمائی۔
غزوہ خندق میں تاریخی مشورہ
غزوہ خندق کے موقع پر جب کفار کا بہت بڑا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہوا تو مسلمانوں نے دفاع کی حکمت عملی پر غور کیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ فارس میں جب دشمن کی فوج زیادہ ہو تو شہر کے گرد خندق کھودی جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ مشورہ بہت پسند آیا اور مسلمانوں نے مدینہ کے گرد خندق کھود دی۔ یہ عرب کی تاریخ میں بالکل نیا طریقہ تھا اور کفار اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اسی خندق کی وجہ سے کفار مدینہ میں داخل نہ ہو سکے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی قدر کرتے ہوئے فرمایا کہ سلمان ہم میں سے ہیں اور اہل بیت میں سے ہیں۔ یہ وہ عظیم اعزاز تھا جو کسی غیر عربی کو نصیب ہوا۔
سبق
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی تلاش میں نکلنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ آپ نے سچائی کے لیے اپنا گھر، وطن اور آزادی سب کچھ قربان کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بڑھ کر عزت عطا فرمائی۔ علم اور تجربے کی قدر بھی آپ کی زندگی کا اہم سبق ہے کہ آپ کے ایک مشورے نے پوری امت کو تباہی سے بچا لیا۔ ہمیں بھی دین کی سمجھ اور علم حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ حق طلبی عطا فرمائے۔
MsWeb