حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علمی خدمات

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علم حدیث و فقہ میں بے مثال خدمات اور خواتین کی تعلیم میں کردار۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علمی خدمات
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علمی خدمات

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپ کو ام المؤمنین کے عظیم لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ اپنی غیر معمولی ذہانت، قوی حافظے اور گہرے علم کی وجہ سے صحابہ کرام میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نو سال گزارے اور اس مختصر عرصے میں اتنا علم حاصل کیا کہ بڑے بڑے صحابہ آپ سے مسائل پوچھتے تھے۔ آپ کی علمی خدمات اسلام کی تاریخ کا روشن باب ہیں اور آپ خواتین کی تعلیم کا سب سے بڑا نمونہ ہیں۔

علم و ذہانت کا غیر معمولی مقام

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو ہزار دو سو دس احادیث مروی ہیں جو خواتین میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آپ کا حافظہ اتنا مضبوط تھا کہ آپ نبی کریم ﷺ کی باتوں کو لفظ بلفظ یاد رکھتی تھیں۔ بڑے صحابہ کرام جب کسی حدیث کے بارے میں شک میں پڑتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم صحابہ کو جب بھی کسی حدیث میں مشکل پیش آتی تو ہم عائشہ سے پوچھتے اور ان کے پاس اس کا علم پاتے۔ آپ صرف حدیث ہی نہیں بلکہ فقہ، تفسیر، طب، شاعری اور عرب کی تاریخ کا بھی گہرا علم رکھتی تھیں۔ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو آپ کے بھانجے اور مشہور عالم تھے فرمایا کرتے تھے کہ میں نے عائشہ سے بڑا عالم نہیں دیکھا۔

فقہ و فتویٰ میں مہارت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو فقہ میں اتنی مہارت حاصل تھی کہ صحابہ کرام آپ سے فتوے پوچھتے تھے۔ آپ کی رائے کو بڑے فقہاء قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ آپ بعض اوقات دوسرے صحابہ کی روایت کردہ احادیث کی تصحیح بھی فرماتی تھیں اور ان کی غلط فہمی کو دور کرتی تھیں۔ آپ کے فتووں کا مجموعہ فقہ اسلامی کا اہم حصہ ہے۔ آپ نے خواتین کے مخصوص مسائل میں جو رہنمائی فرمائی وہ آج تک مسلمان خواتین کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ کی فقاہت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تابعین کے دور کے بڑے علماء آپ کے شاگرد تھے اور آپ سے علم حاصل کرتے تھے۔ آپ نے پردے کے پیچھے سے بیٹھ کر مردوں اور عورتوں دونوں کو تعلیم دی۔

عبادت، سخاوت اور زہد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بہت عبادت گزار تھیں۔ آپ کثرت سے نفلی روزے رکھتیں اور راتوں کو طویل قیام کرتیں۔ آپ کی سخاوت بھی بے مثال تھی۔ ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک لاکھ درہم آئے تو آپ نے اسی دن سب صدقہ کر دیے حالانکہ آپ خود روزے سے تھیں اور افطار کے لیے آپ کے پاس کچھ نہ تھا۔ آپ کی خادمہ نے کہا کہ آپ نے ایک درہم بھی اپنے لیے نہ رکھا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے پہلے کیوں نہ یاد دلایا۔ آپ کی زندگی زہد و قناعت سے بھری ہوئی تھی۔ آپ دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز تھیں اور آپ کا سارا دھیان آخرت کی تیاری پر تھا۔ آپ فرمایا کرتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا اور میں بھی اسی سنت پر چلنا چاہتی ہوں۔

خواتین کی تعلیم میں کردار

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسلمان خواتین کی تعلیم میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ میں بے مثال ہے۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ نے تقریباً پچاس سال تک علم کی خدمت کی۔ خواتین آپ کے پاس آ کر دینی مسائل پوچھتی تھیں اور آپ ان کی رہنمائی فرماتی تھیں۔ آپ کے درس میں مرد بھی شریک ہوتے تھے لیکن آپ پردے کے پیچھے سے پڑھاتی تھیں۔ آپ کی شاگردوں میں عروہ بن زبیر، قاسم بن محمد اور مسروق جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے۔ آپ نے خواتین کو یہ پیغام دیا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ آپ کی زندگی اس بات کی دلیل ہے کہ عورت بھی علم کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہو سکتی ہے۔

سبق

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ آپ نے اپنی ذہانت کو اللہ کے دین کی خدمت میں لگایا اور قیامت تک کے لیے علم کا خزانہ چھوڑا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم علم حاصل کریں، اس پر عمل کریں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ خاص طور پر خواتین کو چاہیے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنا نمونہ بنائیں اور دینی علم میں آگے بڑھیں کیونکہ ایک عالمہ ماں پوری نسل کی تربیت کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جیسی علم کی طلب عطا فرمائے۔