تین بچوں میں سے ایک شیر خوار بچے کی گواہی کا واقعہ
عابد جریج پر ایک عورت نے جھوٹی تہمت لگائی۔ اللہ نے اس کی پاکدامنی ثابت کرنے کے لیے شیر خوار بچے کو زبان عطا فرمائی جس نے سچ بول کر اسے بری کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں جریج نامی ایک بڑا عابد تھا۔ اس نے اپنے لیے ایک عبادت خانہ بنا رکھا تھا جس میں وہ دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا تھا۔ ایک دن اس کی ماں اس کے پاس آئی اور اسے آواز دی۔ جریج اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ نماز جاری رکھوں یا ماں کو جواب دوں۔ اس نے نماز کو ترجیح دی اور ماں کو جواب نہ دیا۔ ماں واپس چلی گئی۔ دوسرے دن پھر ماں آئی اور آواز دی، جریج پھر نماز میں تھا اور جواب نہ دے سکا۔ تیسرے دن بھی یہی ہوا۔ ماں کو دکھ ہوا اور اس نے دعا کی: اے اللہ! میرے بیٹے کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک وہ فاحشہ عورتوں کے چہرے نہ دیکھ لے۔
جھوٹی تہمت اور آزمائش
بنی اسرائیل کے لوگ جریج کی عبادت اور پاکدامنی کی مثالیں دیتے تھے۔ ایک بدکار عورت نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اسے فتنے میں ڈال سکتی ہوں۔ وہ عورت جریج کے پاس گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر جریج نے اس کی طرف توجہ تک نہ دی۔ وہ عورت ناکام لوٹی تو اس نے ایک چرواہے سے تعلق قائم کیا جو جریج کے عبادت خانے کے قریب رہتا تھا۔ کچھ عرصے بعد اس عورت کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو اس نے لوگوں میں مشہور کر دیا کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہ جریج کے عبادت خانے پر ٹوٹ پڑے، اسے باہر نکالا، اسے مارا پیٹا اور اس کا عبادت خانہ گرا دیا۔
شیر خوار بچے کی گواہی
جریج نے حیران ہو کر پوچھا: تم لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے اس عورت سے بدکاری کی ہے اور یہ بچہ تمہارا ہے۔ جریج نے کہا: مجھے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے دو۔ اس نے وضو کیا، نماز پڑھی اور پھر اس عورت کے پاس آیا جس کی گود میں بچہ تھا۔ جریج نے بچے کے پیٹ پر انگلی سے ٹھونکا اور کہا: اے بچے! تیرا باپ کون ہے؟ اللہ کے حکم سے اس شیر خوار بچے نے زبان کھولی اور کہا: میرا باپ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگوں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ جریج سے لپٹ گئے، اسے چومنے لگے اور کہنے لگے: ہم تمہارا عبادت خانہ سونے سے بنا دیتے ہیں۔ جریج نے کہا: نہیں، اسے پہلے کی طرح مٹی سے ہی بنا دو۔ چنانچہ انہوں نے اس کا عبادت خانہ دوبارہ بنا دیا۔
ماں کی دعا کا اثر
اس واقعے میں جریج کی ماں کی وہ دعا بھی پوری ہوئی جو اس نے غصے میں کی تھی۔ جریج کو فاحشہ عورت کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے اسے اسی عورت کے معاملے میں گھسیٹا، مگر اللہ نے اس کی پاکدامنی کو اس معجزے کے ذریعے سب پر واضح کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گہوارے میں صرف تین بچوں نے کلام کیا: عیسیٰ علیہ السلام، جریج کے واقعے والا یہ بچہ، اور بنی اسرائیل کا وہ بچہ جس نے اپنی دودھ پلاتی ماں کو تسلی دی تھی۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ والدین کی خدمت اور ان کی پکار کا جواب دینا بہت بڑی نیکی ہے، یہاں تک کہ نفلی عبادت سے بھی اسے مقدم رکھنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ماں باپ کی دعا، چاہے غصے میں ہی کیوں نہ ہو، قبول ہو سکتی ہے، اس لیے ان کی ناراضی سے بچنا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ جو شخص اللہ کے لیے پاکدامن رہتا ہے، اللہ اس کی عزت کی حفاظت فرماتا ہے اور جھوٹی تہمتوں سے اسے بری کر دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ آزمائش کے وقت نماز اور صبر کا سہارا لیں جیسے جریج نے لیا تھا۔
MsWeb