سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ کا واقعہ

سو قتل کرنے والے ایک شخص نے سچے دل سے توبہ کی اور نیک لوگوں کی بستی کی طرف چل پڑا۔ راستے میں موت آ گئی مگر اللہ کی رحمت نے اسے بخش دیا۔

سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ کا واقعہ
سو آدمیوں کے قاتل کی توبہ کا واقعہ

رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان فرمایا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ ایک دن اس کے دل میں توبہ کا خیال آیا۔ وہ زمین کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا: میں نے ننانوے قتل کیے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کا کوئی راستہ ہے؟ راہب نے کہا: نہیں، تیرے لیے کوئی توبہ نہیں۔ یہ سن کر اس شخص نے غصے میں اس راہب کو بھی قتل کر دیا اور یوں اس کے قتلوں کی تعداد سو پوری ہو گئی۔

عالم دین کی رہنمائی

اس کے بعد بھی اس کے دل میں توبہ کی تڑپ باقی تھی۔ اس نے پھر لوگوں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا۔ اسے ایک سچے عالم دین کا پتہ بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس گیا اور وہی سوال دہرایا: میں نے سو قتل کیے ہیں، کیا میرے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے؟ عالم نے جواب دیا: ہاں، ضرور کھلا ہے۔ تیرے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ پھر اس نے اسے نصیحت کی کہ فلاں بستی کی طرف چلا جا، وہاں کچھ نیک لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، تو بھی ان کے ساتھ عبادت کر۔ اور اپنے اس شہر کی طرف کبھی واپس نہ آنا کیونکہ یہ برے لوگوں کا شہر ہے۔

نیکی کی طرف سفر اور موت

وہ شخص فوراً اس نیک بستی کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کا دل توبہ سے بھرا ہوا تھا اور وہ سچے ارادے سے اللہ کی طرف لوٹنا چاہتا تھا۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ اس کی موت آ گئی۔ وہ نیک بستی کی طرف اپنا سینہ کیے ہوئے گرا، یعنی اس کا رخ اور ارادہ نیکی کی طرف تھا۔ اس کی روح قبض ہوتے ہی رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی، اور رحمت کے فرشتے کہنے لگے کہ یہ توبہ کر کے اللہ کی طرف آ رہا تھا۔ یہ اختلاف اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی رحمت کتنی وسیع ہے۔ ایک طرف اس کے سو قتل تھے اور دوسری طرف اس کی سچی توبہ اور نیکی کی طرف اس کا سفر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس معاملے میں مداخلت فرمائی اور زمین کو حکم دیا کہ نیک بستی قریب ہو جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بندہ سچے دل سے اللہ کی طرف لوٹتا ہے تو اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے اور اسباب بھی اس کے حق میں کر دیتا ہے۔

اللہ کا فیصلہ اور مغفرت

اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے ایک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا۔ اس نے کہا: دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ ناپ لو، یہ جس بستی کے زیادہ قریب ہو گا اسی کا شمار ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں والی بستی کی زمین کو حکم دیا کہ قریب ہو جا، اور برے شہر کی زمین کو حکم دیا کہ دور ہو جا۔ جب فاصلہ ناپا گیا تو وہ نیک بستی کے صرف ایک بالشت زیادہ قریب پایا گیا۔ چنانچہ اسے بخش دیا گیا اور رحمت کے فرشتے اس کی روح لے گئے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے۔

سبق

اس واقعے سے ہمیں کئی عظیم سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔ سو قتل کے باوجود سچی توبہ قبول ہو گئی۔ دوسرا یہ کہ توبہ کے بعد بری صحبت اور برے ماحول کو چھوڑ کر نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ نیت اور ارادے کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہے، اس شخص نے ابھی نیک بستی پہنچ کر کوئی عمل بھی نہ کیا تھا مگر اس کے سچے ارادے نے اسے بخشوا دیا۔ ہمیں چاہیے کہ گناہ ہو جائے تو فوراً سچی توبہ کریں اور نیکی کی طرف قدم بڑھائیں۔