پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کا واقعہ
ایک مسافر نے شدید پیاس میں ڈوبے کتے کو دیکھا تو اپنے جوتے میں کنویں سے پانی بھر کر اسے پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اس نیکی کو قبول فرمایا اور اسے بخش دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو ایک ایسا واقعہ سنایا جو رحم دلی اور نیکی کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص سفر کر رہا تھا اور اسے سخت پیاس لگی۔ راستے میں اسے ایک کنواں نظر آیا۔ وہ بڑی مشکل سے کنویں میں اترا، پانی پی کر اپنی پیاس بجھائی اور پھر باہر نکل آیا۔ باہر نکلتے ہی اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا اور گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس شخص نے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی۔
کتے کی حالت دیکھ کر رحم آنا
وہ شخص کتے کی حالت دیکھ کر ٹھہر گیا۔ کتا زبان نکالے ہانپ رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں بے بسی صاف نظر آ رہی تھی۔ گرمی کا موسم تھا اور دور دور تک پانی کا کوئی اور ذریعہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس شخص کے دل میں اللہ نے رحم ڈال دیا۔ اس نے سوچا کہ اگر ابھی اس کتے کو پانی نہ پلایا گیا تو وہ پیاس سے مر جائے گا۔ اس نے اپنے آرام کو پس پشت ڈالا اور دوبارہ کنویں میں اترنے کا فیصلہ کیا حالانکہ کنویں میں اترنا اور چڑھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔
جوتے میں پانی بھر کر پلانا
اس شخص کے پاس پانی نکالنے کا کوئی برتن نہ تھا۔ اس نے اپنا جوتا اتارا اور اس میں کنویں کا پانی بھرا۔ پھر اس نے بھرا ہوا جوتا اپنے منہ سے پکڑا اور بڑی مشکل سے کنویں کی دیوار پر چڑھ کر باہر نکلا۔ اس کے ہاتھ پانی سے بھیگے ہوئے تھے اور جوتا منہ میں دبائے وہ آہستہ آہستہ اوپر آیا۔ باہر نکل کر اس نے کتے کے سامنے جوتا رکھ دیا۔ کتے نے جلدی جلدی پانی پیا یہاں تک کہ اس کی پیاس بجھ گئی اور وہ سکون سے بیٹھ گیا۔ اس شخص نے ایک بے زبان جانور کی جان بچا لی تھی۔
اللہ کی طرف سے مغفرت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے اس عمل کو قبول فرمایا، اس کی قدر فرمائی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حیران ہو کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے پر بھی ہمیں اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر جگر رکھنے والی مخلوق کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر ہے۔ یعنی ہر زندہ جاندار کے ساتھ بھلائی کا بدلہ اللہ کے ہاں ضرور ملتا ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے۔
رحم دلی کی عظمت
اسلام میں رحم دلی کو بہت اونچا مقام حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ اس شخص نے ایک پیاسے کتے پر رحم کیا تو اللہ نے اس پر رحم فرمایا اور اس کے گناہ معاف کر دیے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ نیکی کے لیے بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس شخص کے پاس پانی نکالنے کا کوئی برتن نہ تھا تو اس نے اپنے جوتے کو ہی برتن بنا لیا۔ جس کے دل میں نیکی کا سچا جذبہ ہو وہ ہر حال میں نیکی کا راستہ نکال لیتا ہے۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نیکی چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ کے ہاں اس کی قدر ہوتی ہے۔ ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے جیسے معمولی نظر آنے والے عمل نے ایک شخص کی مغفرت کا ذریعہ بنا دیا۔ ہمیں چاہیے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں اور تمام مخلوقات کے ساتھ بھی رحم اور بھلائی کا سلوک کریں۔ جو شخص مخلوق پر رحم کرتا ہے، اللہ اس پر رحم فرماتا ہے۔ نیکی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں کیونکہ معلوم نہیں کون سی نیکی اللہ کو پسند آ جائے اور ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے۔
MsWeb