حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بہادری کے واقعات
سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بے مثال بہادری اور عظیم فتوحات کے واقعات۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بنو مخزوم کے مشہور بہادر سردار تھے جنہیں نبی کریم ﷺ نے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا عظیم لقب عطا فرمایا۔ آپ اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمانوں کے سخت مخالف تھے اور غزوہ احد میں کفار کی فتح میں آپ کے جنگی حربے کا بڑا کردار تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ہدایت ڈالی تو آپ اسلام کے ایسے بہادر سپہ سالار بنے کہ آپ نے اپنی زندگی میں کوئی جنگ نہ ہاری۔ آپ کی جنگی حکمت عملی اور قیادت آج بھی فوجی ماہرین کے لیے مطالعے کا موضوع ہے۔
اسلام قبول کرنا
آٹھ ہجری میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی۔ آپ اپنے دو ساتھیوں عمرو بن العاص اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ نبی کریم ﷺ ان کی آمد پر بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ مکہ نے اپنے جگر گوشے تمہاری طرف بھیج دیے ہیں۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے جیسے عقل مند آدمی سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ اسلام کی حقانیت کو اتنی دیر تک نہ پہچانے۔ اس پر حضرت خالد نے اپنے پچھلے گناہوں کے لیے دعا کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور اسلام نے ان کے تمام پچھلے گناہ مٹا دیے۔
غزوہ مؤتہ اور سیف اللہ کا لقب
اسلام قبول کرنے کے کچھ عرصے بعد غزوہ مؤتہ پیش آیا۔ حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔ اس نازک موقع پر مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا۔ آپ نے اپنی غیر معمولی جنگی حکمت عملی سے رومیوں کی بہت بڑی فوج کے سامنے مسلمانوں کے چھوٹے لشکر کو تباہی سے بچایا اور دانشمندانہ پسپائی کے ذریعے پورے لشکر کو بحفاظت واپس لے آئے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کارنامے پر حضرت خالد کو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا عظیم لقب عطا فرمایا۔ یہ وہ لقب ہے جو تاریخ میں صرف حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہی کو ملا۔
فتح مکہ سے یرموک تک عظیم فتوحات
فتح مکہ کے موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک دستے کے سردار تھے اور غزوہ حنین میں بھی آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ نے یمامہ کی جنگ میں مسیلمہ کذاب کو شکست دے کر اس فتنے کا خاتمہ کیا۔ آپ کی قیادت میں مسلمانوں نے عراق اور شام میں بھی عظیم فتوحات حاصل کیں۔ پندرہ ہجری میں آپ کی قیادت میں یرموک کا تاریخی معرکہ ہوا جہاں رومیوں کی فوج تعداد میں مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ آپ نے لشکر کو دستوں میں تقسیم کیا اور صحیح وقت پر حملے کا حکم دیا۔ چھ دن کی سخت لڑائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی جس نے شام میں رومی سلطنت کی کمر توڑ دی۔
معزولی اور وفات
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالاری سے معزول کر دیا کیونکہ لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہونے لگا تھا کہ فتوحات خالد کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ حضرت عمر چاہتے تھے کہ لوگ سمجھیں کہ فتح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے نہ کہ کسی شخص کی وجہ سے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو بلا چوں و چرا قبول کیا اور ایک عام سپاہی کی حیثیت سے جہاد میں مصروف رہے۔ یہ ان کی عاجزی اور اخلاص کی عظیم مثال ہے۔ آپ کی وفات اکیس ہجری میں حمص میں ہوئی۔ وفات کے وقت آپ نے فرمایا کہ میرے جسم پر کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار یا نیزے کا زخم نہ ہو لیکن آج میں بستر پر مر رہا ہوں۔
سبق
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بہادری کے ساتھ عاجزی اور اخلاص بھی ضروری ہے۔ آپ نے اپنی تمام فتوحات کے باوجود کبھی غرور نہ کیا اور معزولی کو بھی اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر لیا۔ ہمیں بھی اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر نہیں باندھنا چاہیے بلکہ ہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسی بہادری اور عاجزی عطا فرمائے۔
MsWeb