ایک نیک شخص اور اس کے باغ کی کہانی

باغ کے مالکوں نے غریبوں کو محروم رکھنے کے لیے صبح سویرے پھل توڑنے کی قسم کھائی مگر ان شاء اللہ نہ کہا۔ رات کو اللہ کا عذاب آیا اور باغ تباہ ہو گیا۔

ایک نیک شخص اور اس کے باغ کی کہانی
ایک نیک شخص اور اس کے باغ کی کہانی

قرآن مجید کی سورۃ القلم میں اللہ تعالیٰ نے باغ والوں کا واقعہ بیان فرمایا ہے جنہیں اصحاب الجنہ کہا جاتا ہے۔ ان کا باپ ایک نیک شخص تھا جس کا ایک بڑا باغ تھا۔ وہ ہر سال باغ کے پھلوں میں سے غریبوں اور مسکینوں کو ان کا حصہ ضرور دیتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے بیٹوں نے آپس میں مشورہ کیا اور قسم کھائی کہ ہم صبح سویرے جا کر باغ کے پھل توڑ لیں گے تاکہ کوئی غریب ہمیں دیکھ نہ سکے اور ہمیں کسی کو کچھ نہ دینا پڑے۔ انہوں نے اپنی اس قسم میں ان شاء اللہ کہنا بھی ضروری نہ سمجھا۔ ان کا ارادہ تھا کہ غریبوں کا حق مار کر سارا پھل خود سمیٹ لیں۔

رات کو آنے والی آفت

وہ لوگ اپنی چالاکی پر خوش تھے اور سوچ رہے تھے کہ صبح ہوتے ہی باغ جا کر سارا پھل توڑ لائیں گے۔ مگر وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیت اور ان کے ارادوں کو دیکھ رہا ہے۔ رات کے وقت جب وہ سو رہے تھے، اللہ کی طرف سے ایک آفت آئی اور ان کے پورے باغ کو تباہ کر گئی۔ صبح جب وہ اٹھے تو ان کا ہرا بھرا باغ ایک کٹی ہوئی کھیتی کی طرح سیاہ اور ویران ہو چکا تھا۔ ان کی ساری محنت، ساری امیدیں اور ساری چالاکیاں ایک رات میں مٹی میں مل گئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں اسی طرح آزمایا جیسے باغ والوں کو آزمایا تھا۔

صبح کی حیرانی اور ندامت

صبح سویرے وہ ایک دوسرے کو چپکے چپکے بلانے لگے کہ چلو اگر پھل توڑنے ہیں تو جلدی چلو، کہیں کوئی غریب آ کر ہمارے سامنے نہ کھڑا ہو جائے۔ وہ دبے پاؤں اس یقین کے ساتھ چلے کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہوں گے۔ مگر جب انہوں نے باغ کی حالت دیکھی تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ پہلے تو انہوں نے کہا کہ شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں، یہ ہمارا باغ نہیں ہو سکتا۔ پھر جب یقین ہو گیا کہ یہ انہی کا باغ ہے تو کہنے لگے: بلکہ ہم محروم کر دیے گئے ہیں۔ ان کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔

نیک بھائی کی نصیحت اور توبہ

ان میں جو سب سے بہتر اور سمجھدار تھا، اس نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے؟ یعنی تم نے ان شاء اللہ کیوں نہ کہا اور غریبوں کا حق مارنے کا ارادہ کیوں کیا؟ یہ سن کر وہ سب بول اٹھے: ہمارے رب کی ذات پاک ہے، بے شک ہم ظالم تھے۔ انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ پھر انہوں نے کہا: ہائے ہماری بربادی! بے شک ہم حد سے بڑھنے والے تھے۔ امید ہے کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا، بے شک ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ انہوں نے سچی توبہ کی اور اللہ سے معافی مانگی۔

سبق

اس واقعے سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ہر کام میں ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے، اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ مال میں غریبوں کا حق ہوتا ہے، اسے مارنے والا اللہ کے عذاب کا مستحق بنتا ہے۔ تیسرا یہ کہ بری نیت کا انجام برا ہوتا ہے چاہے منصوبہ کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو۔ چوتھا یہ کہ گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرنی چاہیے جیسے باغ والوں نے کی۔ اللہ تعالیٰ سچی توبہ قبول فرماتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو بہتر نعم البدل عطا فرماتا ہے۔