حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق، ابلیس کے تکبر اور سجدے سے انکار، جنت میں آزمائش اور توبہ کی قبولیت کا مکمل واقعہ۔

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ
حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ

حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے پہلے نبی اور انسانیت کے جد امجد ہیں۔ ان کی تخلیق اور ابلیس کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انسانیت کی تاریخ کا پہلا باب ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تکبر کتنا بڑا گناہ ہے اور توبہ کا دروازہ کتنا وسیع ہے۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے جو قیامت تک اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔

حضرت آدم کی تخلیق اور فرشتوں کا سجدہ

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا تو اس میں ایسے کو پیدا کرے گا جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا، حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر اللہ نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح پھونکی۔ اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھائے اور پھر فرشتوں کے سامنے پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے، ہمیں تو وہی علم ہے جو تو نے ہمیں سکھایا۔ پھر حضرت آدم نے ان کے نام بتا دیے۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ ابلیس جنوں میں سے تھا اور اپنی عبادت کی وجہ سے فرشتوں میں شامل تھا، مگر اس نے تکبر کیا اور سجدے سے انکار کر دیا۔

ابلیس کا تکبر اور اس کی مہلت

اللہ نے پوچھا کہ اے ابلیس، تجھے میرے حکم پر سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا۔ ابلیس نے تکبر سے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ اس کا یہ جواب تکبر کی انتہا تھا۔ اس نے اللہ کے حکم کو اپنی عقل پر تولا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہاں سے نکل جا، تو مردود ہے اور قیامت تک تجھ پر میری لعنت ہے۔ ابلیس نے کہا کہ اے میرے رب، مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے اسے مہلت دے دی۔ ابلیس نے قسم کھائی کہ میں ضرور ان کے لیے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا، پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکرگزار نہ پائے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ یوں شیطان کو انسان کو گمراہ کرنے کی مہلت مل گئی مگر نیک بندے اس کے شر سے محفوظ رہیں گے۔

جنت میں قیام اور شیطان کا وسوسہ

اللہ نے حضرت آدم اور ان کی بیوی حضرت حوا کو جنت میں ٹھہرایا اور فرمایا کہ اس جنت میں سے جہاں سے چاہو کھاؤ پیو، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ حضرت آدم اور حوا جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے لگے۔ مگر شیطان ان کا دشمن تھا۔ اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہا کہ تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے صرف اس لیے منع کیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ حضرت آدم شیطان کے دھوکے میں آ گئے اور دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ جیسے ہی انہوں نے پھل کھایا، ان کے ستر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے۔ اللہ نے انہیں پکارا کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور تم سے نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

زمین پر اتارا جانا اور توبہ کی قبولیت

حضرت آدم اور حوا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے اللہ کے حضور عاجزی سے دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ پھر اللہ نے حکم دیا کہ تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور زمین میں تمہارے لیے ایک وقت تک ٹھکانا اور فائدہ ہے۔ حضرت آدم زمین پر اترے اور یہاں انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت کی۔ اللہ نے انہیں نبوت عطا فرمائی اور وہ انسانیت کے پہلے نبی بنے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو اللہ کی توحید کی تعلیم دی اور شیطان کے شر سے خبردار کیا۔ یوں زمین پر انسانی زندگی کا آغاز ہوا۔

سبق

حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کے واقعے سے ہمیں کئی بنیادی سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تکبر سب سے بڑا گناہ ہے جس نے ابلیس کو ہمیشہ کے لیے مردود کر دیا۔ دوسرا یہ کہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی عقل نہیں چلانی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے جو قسم کھا کر بھی دھوکہ دیتا ہے، اس لیے اس کے وسوسوں سے بچنا چاہیے۔ چوتھا یہ کہ گناہ ہو جائے تو مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ فوراً توبہ کر لینی چاہیے، کیونکہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یہی توبہ انسان کی نجات کا راستہ ہے۔