حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خواب میں بیٹے کی قربانی کا حکم، حضرت اسماعیل کی رضامندی اور اللہ کی طرف سے ذبح عظیم کا مکمل واقعہ۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ اطاعت و فرمانبرداری کی وہ عظیم مثال ہے جسے ہر سال عید الاضحی کے موقع پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ باپ اور بیٹے دونوں کی اللہ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم و رضا کی داستان ہے۔ اسی واقعے کی یاد میں مسلمان آج بھی قربانی کرتے ہیں اور حج کے مناسک ادا کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم کو خواب میں حکم

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں اللہ سے نیک اولاد کی دعا کی تھی۔ اللہ نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی خوشخبری دی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتے تھے۔ جب اسماعیل کچھ بڑے ہوئے اور باپ کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ پیغمبروں کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں، اس لیے حضرت ابراہیم سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ یہ ان کے لیے بہت بڑی آزمائش تھی۔ ایک طرف بیٹے کی محبت تھی اور دوسری طرف اللہ کا حکم۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایا کہ اے میرے بیٹے، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم غور کرو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔

حضرت اسماعیل کی عظیم رضامندی

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اے میرے ابا جان، آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ ایک کمسن بچے کا یہ جواب اس کے عظیم ایمان اور اللہ کے حکم کے سامنے مکمل تسلیم کی دلیل تھا۔ انہوں نے نہ رویا، نہ ضد کی اور نہ بھاگے۔ بلکہ انہوں نے اپنے والد کو حوصلہ دیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ حضرت اسماعیل نے کہا کہ ابا جان، مجھے اچھی طرح باندھ دیجیے تاکہ میں تڑپوں نہیں، اور اپنی قمیض سمیٹ لیجیے تاکہ اس پر خون نہ لگے اور میری والدہ اسے دیکھ کر غمگین نہ ہوں۔ باپ اور بیٹے دونوں اللہ کے حکم کے سامنے جھک گئے۔ یہ منظر فرشتوں کے لیے بھی حیرت کا باعث تھا۔

منیٰ کی وادی میں قربانی کا وقت

حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو لے کر منیٰ کی وادی میں پہنچے۔ شیطان نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ پہلے اس نے حضرت ابراہیم کو وسوسہ دیا، پھر حضرت ہاجرہ کو اور پھر حضرت اسماعیل کو۔ تینوں نے اسے پتھر مار کر بھگایا۔ یہی وہ عمل ہے جس کی یاد میں حاجی آج بھی رمی جمار کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔ انہوں نے چھری تیز کی اور اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے لگے۔ مگر اللہ کے حکم سے چھری نے کام نہ کیا۔ حضرت ابراہیم نے کئی بار کوشش کی مگر چھری بیٹے کی گردن نہ کاٹ سکی۔ یہ اللہ کی قدرت تھی کہ وہ اپنے خلیل کے بیٹے کو بچانا چاہتا تھا۔ آزمائش پوری ہو چکی تھی۔ باپ نے اپنا فرض نبھایا تھا اور بیٹے نے اپنی رضا کا ثبوت دیا تھا۔

ذبح عظیم اور اللہ کی رضا

اسی وقت اللہ نے پکارا کہ اے ابراہیم، تم نے خواب سچ کر دکھایا۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ یہ یقیناً ایک کھلی آزمائش تھی۔ اللہ نے حضرت اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا دنبہ بھیج دیا جو حضرت ابراہیم نے ذبح کیا۔ اسی دنبے کو ذبح عظیم کہا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اسے بعد والوں میں باقی رکھا۔ ابراہیم پر سلام ہو۔ یوں یہ واقعہ قیامت تک کے لیے ایک عظیم یادگار بن گیا۔ ہر سال ذوالحجہ کی دس تاریخ کو مسلمان اسی سنت ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کرتے ہیں۔ حج کے موقع پر حاجی منیٰ میں قربانی کرتے ہیں اور شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔ یہ سب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی اسی عظیم قربانی کی یادگاریں ہیں۔

سبق

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے واقعے سے ہمیں کئی عظیم سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ اللہ کے حکم کے سامنے اپنی سب سے پیاری چیز بھی قربان کر دینی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ والدین کی اطاعت اور ان کے ساتھ حسن سلوک عظیم نیکی ہے۔ تیسرا یہ کہ مصیبت میں صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کو اللہ ضرور نجات دیتا ہے۔ چوتھا یہ کہ شیطان کے وسوسوں کو پتھر مار کر بھگانا چاہیے یعنی اس کی بات نہیں ماننی چاہیے۔ پانچواں سبق یہ ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی آزمائش ضرور لیتا ہے مگر ان کا انجام ہمیشہ اچھا کرتا ہے۔ عید الاضحی کی قربانی ہمیں ہر سال یہی سبق یاد دلاتی ہے۔