غار میں پھنسے تین آدمیوں کی دعاؤں کا واقعہ
غار میں پھنسے تین آدمیوں نے اپنی اپنی خالص نیکیوں کا واسطہ دے کر دعائیں مانگیں۔ ہر دعا کے ساتھ چٹان سرکتی گئی یہاں تک کہ تینوں باہر نکل آئے۔
بنی اسرائیل کے تین مسافر بارش سے بچنے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے تو پہاڑ سے لڑھکتی ایک چٹان نے غار کا منہ بند کر دیا۔ اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود وہ چٹان کو ہلا نہ سکے۔ اس نازک گھڑی میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہر شخص اللہ سے اس نیکی کا واسطہ دے کر دعا کرے جو اس نے خالص اللہ کی رضا کے لیے کی ہو۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا مانگنا اللہ کو بہت محبوب ہے۔ آئیے ان تینوں کی دعاؤں کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
پہلی دعا: فرمانبردار بیٹے کی التجا
پہلے شخص نے ہاتھ اٹھائے اور کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میرے بوڑھے والدین تھے اور میں روزانہ بکریوں کا دودھ دوہ کر سب سے پہلے انہیں پلاتا تھا۔ ایک شام میں دور چراگاہ سے دیر سے لوٹا۔ دودھ لے کر والدین کے پاس پہنچا تو وہ سو چکے تھے۔ میں نے انہیں جگانا گوارا نہ کیا اور نہ ہی ان سے پہلے اپنے بچوں کو پلانا چاہا۔ میں دودھ کا پیالہ لیے ساری رات ان کے سرہانے کھڑا رہا، میرے بچے بھوک سے روتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور وہ جاگے تو میں نے انہیں دودھ پلایا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیری رضا چاہتے ہوئے کیا تھا تو اس مصیبت سے ہمیں نجات دے اور اس چٹان کو ہٹا دے۔ اس دعا کے ختم ہوتے ہی چٹان تھوڑی سی سرک گئی مگر باہر نکلنے کا راستہ نہ کھلا۔
دوسری دعا: گناہ چھوڑنے والے کی فریاد
دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جسے میں شدت سے چاہتا تھا۔ قحط کے سال میں وہ مجبور ہو کر میرے پاس آئی تو میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ میری خواہش پوری کرے۔ جب میں اس کے پاس بیٹھا اور گناہ کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے سے مت توڑ۔ اے اللہ! یہ سنتے ہی میں کانپ اٹھا اور اس سے اٹھ کھڑا ہوا حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، اور وہ دینار بھی اسی کے پاس چھوڑ دیے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیرے خوف سے کیا تھا تو ہمیں اس قید سے نجات دے۔ اس دعا کے بعد چٹان مزید سرک گئی مگر ابھی بھی نکلنے کی گنجائش نہ تھی۔
تیسری دعا: امانت دار مزدور کی پکار
تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! میں نے مزدور رکھے تھے، سب کو مزدوری دے دی سوائے ایک کے جو اپنی اجرت چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی اجرت کو کاروبار میں لگایا یہاں تک کہ وہ بڑھ کر اونٹوں، گائیوں، بکریوں اور غلاموں کی صورت میں بہت بڑا مال بن گئی۔ برسوں بعد جب وہ آیا تو میں نے اسے کہا کہ یہ سب تمہارا ہے، سب لے جاؤ۔ اس نے سمجھا کہ میں مذاق کر رہا ہوں مگر میں نے سنجیدگی سے اسے سارا مال دے دیا اور اس نے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کو ہم سے دور کر دے۔ جیسے ہی اس کی دعا مکمل ہوئی، چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور تینوں غار سے باہر نکل آئے۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں دعا کا ایک عظیم طریقہ معلوم ہوتا ہے: اپنی نیکیوں کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگنا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خالص نیت سے کی گئی نیکی مصیبت میں ڈھال بن جاتی ہے۔ والدین کی خدمت، اللہ کے خوف سے گناہ چھوڑنا اور امانت میں خیانت نہ کرنا، یہ تینوں اعمال دعا کی قبولیت کا ذریعہ بنے۔ ہمیں چاہیے کہ نیکیاں صرف اللہ کے لیے کریں اور مشکل وقت میں انہی نیکیوں کا واسطہ دے کر اللہ سے مدد مانگیں۔ جو شخص اللہ کے لیے عمل کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
MsWeb