ایک شخص کی صدقہ دینے کی نیت اور اس سے ملنے والا سبق
ایک شخص نے رات کے اندھیرے میں صدقہ دیا جو چور، مالدار اور بدکار عورت کو پہنچا، مگر اس کی سچی نیت کی وجہ سے اللہ نے تینوں صدقے قبول فرما لیے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان فرمایا جس نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ ضرور صدقہ دے گا۔ وہ رات کے وقت صدقہ لے کر نکلا تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ سکے اور اس کا عمل خالص اللہ کے لیے ہو۔ اندھیرے میں اس نے صدقہ ایک شخص کے ہاتھ میں تھما دیا اور واپس چلا آیا۔ صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ رات کو کسی نے چور کو صدقہ دے دیا ہے۔ اس شخص کو پتہ چلا کہ اس کا صدقہ ایک چور کو پہنچا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے، ہر حال میں تیرا شکر ہے۔ پھر اس نے ارادہ کیا کہ آج رات پھر صدقہ دوں گا۔
دوسری رات کا صدقہ
دوسری رات وہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور اندھیرے میں ایک اور شخص کو دے آیا۔ صبح لوگوں نے کہا کہ رات کو کسی مالدار شخص کو صدقہ دے دیا گیا ہے۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کا صدقہ ایک ایسے شخص کو پہنچا ہے جو خود مالدار ہے اور اسے صدقے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ اس شخص نے پھر کہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے، ہر حال میں تیرا شکر ہے۔ اس نے ہمت نہ ہاری اور ارادہ کیا کہ تیسری رات بھی صدقہ دوں گا۔ اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی، اس لیے وہ لوگوں کی باتوں سے مایوس نہ ہوا۔
تیسری رات کا صدقہ
تیسری رات وہ پھر صدقہ لے کر نکلا اور ایک عورت کے ہاتھ میں دے آیا۔ صبح پتہ چلا کہ وہ ایک بدکار عورت تھی جو برے کاموں میں مشہور تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ رات کو ایک زانیہ عورت کو صدقہ دے دیا گیا۔ یہ سن کر اس شخص نے پھر وہی کہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے، ہر حال میں تیرا شکر ہے۔ تینوں راتوں کا صدقہ بظاہر غلط ہاتھوں میں پہنچا تھا۔ چور کو صدقہ، مالدار کو صدقہ اور بدکار عورت کو صدقہ۔ لوگ اس کا مذاق اڑانے لگے مگر اس کا دل مطمئن تھا کیونکہ اس کی نیت خالص تھی۔
خواب میں بشارت اور قبولیت
پھر اس شخص کو خواب میں بتایا گیا کہ تیرے تینوں صدقے قبول ہو گئے ہیں۔ رہا چور کو دیا گیا صدقہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ چوری سے باز آ جائے اور پاکدامنی اختیار کر لے۔ اور جو صدقہ مالدار کو دیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ عبرت پکڑے اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرنے لگے۔ اور جو صدقہ اس بدکار عورت کو دیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ برے کام سے رک جائے اور پاکدامن بن جائے۔ یعنی اس کے صدقے کا اثر ان تینوں کی زندگیوں پر پڑ سکتا ہے اور یہی اس کے اخلاص کا ثمرہ ہے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری میں مذکور ہے۔
نیت کی طاقت
یہ واقعہ نیت کی طاقت کو واضح کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ اس شخص نے تینوں راتیں صرف اللہ کی رضا کے لیے صدقہ دیا، اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اس کا صدقہ کس کو پہنچ رہا ہے۔ اس کا اخلاص اتنا مضبوط تھا کہ لوگوں کے طعنوں کے باوجود وہ ہر رات کہتا رہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے۔ یہی اخلاص اس کے صدقے کی قبولیت کا سبب بنا۔ اگر اس کی نیت دکھاوا ہوتی تو شاید ایک رات کے بعد ہی وہ یہ سلسلہ روک دیتا۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ صدقہ کس کو پہنچا، یہ اتنا اہم نہیں جتنا یہ اہم ہے کہ دینے والے کی نیت کیا تھی۔ خالص نیت سے کیا گیا عمل اللہ کے ہاں ضرور قبول ہوتا ہے چاہے ظاہری نتیجہ ویسا نہ ہو جیسا ہم نے سوچا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ نیکی کرتے وقت صرف اللہ کی رضا کو سامنے رکھیں، لوگوں کی باتوں سے مایوس نہ ہوں اور نیکی کا سلسلہ جاری رکھیں۔ اخلاص وہ کنجی ہے جو ہر نیکی کو اللہ کے ہاں مقبول بنا دیتی ہے۔
MsWeb