اصحابِ اُخدود کا واقعہ اور ایمان کی استقامت
ایک ظالم بادشاہ نے ایمان لانے والوں کو آگ سے بھری خندقوں میں ڈال دیا مگر وہ ایمان پر قائم رہے۔ یہ سورۃ البروج میں مذکور اصحاب اخدود کا واقعہ ہے۔
قرآن مجید کی سورۃ البروج میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب اخدود یعنی خندقوں والوں کا واقعہ بیان فرمایا ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے ایمان والوں کے لیے آگ سے بھری خندقیں کھودیں اور انہیں اس میں ڈال دیا۔ اس واقعے کی تفصیل صحیح مسلم میں مذکور ایک حدیث میں آئی ہے۔ پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا۔ جب جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ہوشیار لڑکا دے دو تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں۔ بادشاہ نے ایک ذہین لڑکا اس کے حوالے کر دیا۔
لڑکے کی راہب سے ملاقات
وہ لڑکا روزانہ جادوگر کے پاس جانے کے راستے میں ایک راہب کی عبادت گاہ کے پاس سے گزرتا تھا۔ ایک دن وہ راہب کے پاس بیٹھ گیا اور اس کی باتیں سن کر متاثر ہوا۔ راہب اسے اللہ کی توحید کی تعلیم دیتا تھا۔ اب لڑکا جادوگر کے پاس جاتے ہوئے راہب کے پاس بھی رکنے لگا۔ جب وہ دیر سے جادوگر کے پاس پہنچتا تو جادوگر اسے مارتا، اور گھر دیر سے پہنچتا تو گھر والے مارتے۔ اس نے راہب سے شکایت کی تو راہب نے کہا: جب جادوگر ڈرائے تو کہہ دینا کہ گھر والوں نے روک لیا تھا، اور جب گھر والے ڈرائیں تو کہہ دینا کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔
لڑکے کے ہاتھ پر معجزات
ایک دن راستے میں ایک بہت بڑا درندہ آیا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لڑکے نے سوچا کہ آج پتہ چل جائے گا کہ راہب بہتر ہے یا جادوگر۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور دعا کی: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے زیادہ محبوب ہے تو اس جانور کو مار ڈال۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا اور جانور مر گیا۔ لوگوں کا راستہ کھل گیا۔ لڑکے نے یہ واقعہ راہب کو سنایا تو راہب نے کہا: بیٹے! آج تم مجھ سے بہتر ہو گئے ہو، تمہاری آزمائش ہونے والی ہے، اور اگر آزمائے جاؤ تو میرا پتہ نہ بتانا۔ اس کے بعد لڑکا اللہ کے حکم سے اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کرنے لگا۔
بادشاہ کا ظلم اور لڑکے کی شہادت
بادشاہ کا ایک درباری اندھا تھا۔ اس نے سنا کہ لڑکا اندھوں کو ٹھیک کرتا ہے تو وہ بہت سے تحفے لے کر لڑکے کے پاس آیا اور کہا کہ اگر تم مجھے ٹھیک کر دو تو یہ سب تمہارا۔ لڑکے نے کہا: میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا تو اللہ دیتا ہے۔ اگر تم اللہ پر ایمان لاؤ تو میں دعا کروں گا۔ وہ ایمان لے آیا اور اللہ نے اسے بینائی عطا فرما دی۔ بادشاہ کو پتہ چلا تو اس نے درباری کو سخت تکلیفیں دیں یہاں تک کہ اس نے لڑکے کا پتہ بتا دیا۔ پھر لڑکے کو پکڑا گیا اور اسے بھی اذیتیں دی گئیں مگر اس نے راہب کا پتہ نہ بتایا۔ آخرکار بادشاہ نے لڑکے کو قتل کرنے کے کئی منصوبے بنائے مگر ہر بار اللہ نے اسے بچا لیا۔ آخر میں لڑکے نے خود کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک میرے کہنے پر عمل نہ کرو۔ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو، مجھے کھجور کے تنے سے باندھو، میرے ترکش سے ایک تیر نکالو اور کہو: اللہ کے نام سے، اس لڑکے کے رب کے نام سے۔ پھر تیر چلاؤ۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور تیر لڑکے کی کنپٹی میں لگا جس سے وہ شہید ہو گیا۔ یہ دیکھ کر لوگ پکار اٹھے: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔
آگ کی خندقیں اور ایمان کی استقامت
لوگوں کے ایمان لانے پر بادشاہ غصے سے پاگل ہو گیا۔ اس نے حکم دیا کہ راستوں پر بڑی بڑی خندقیں کھودی جائیں اور ان میں آگ بھڑکا دی جائے۔ پھر اعلان کیا گیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔ ایمان والے ایک ایک کر کے آگ میں ڈالے گئے مگر کوئی بھی اپنے ایمان سے نہ پھرا۔ ایک دودھ پلاتی عورت اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ لائی گئی۔ وہ آگ میں کودنے سے ہچکچائی تو اس کے شیر خوار بچے نے کہا: اے ماں! صبر کر، تم حق پر ہو۔ یہ سن کر وہ بھی آگ میں کود گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں پر لعنت فرمائی اور ایمان والوں کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں ایمان کی استقامت کا عظیم سبق ملتا ہے۔ سچے مومن دنیا کی ہر تکلیف برداشت کر لیتے ہیں مگر اپنے ایمان سے نہیں پھرتے۔ اس لڑکے نے اپنی جان دے کر سیکڑوں لوگوں کو ایمان کی دولت عطا کی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں، نیکی کی دعوت دیتے رہیں اور آزمائش کے وقت صبر کا مظاہرہ کریں۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور ظالموں کو ان کے انجام تک ضرور پہنچاتا ہے۔
MsWeb