حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سادہ زندگی کے واقعات
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سادگی، قناعت اور بے مثال سخاوت کے واقعات۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی سب سے چھوٹی اور سب سے پیاری صاحبزادی تھیں۔ آپ کی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کو سیدۃ نساء اہل الجنۃ یعنی جنت کی عورتوں کی سردار کا عظیم لقب عطا فرمایا۔ آپ اپنی سادہ زندگی، قناعت، عبادت اور سخاوت کی وجہ سے مشہور تھیں۔ باوجود اس کے کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ کی بیٹی تھیں آپ کی زندگی انتہائی سادگی سے گزرتی تھی۔ آپ کا گھر غربت اور سادگی کی روشن مثال تھا اور آپ کی سیرت آج بھی مسلمان خواتین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
سادہ زندگی اور گھریلو محنت
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر کے سارے کام خود کرتی تھیں۔ آپ چکی پیستی تھیں جس سے آپ کے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے تھے۔ آپ مشکیزے سے پانی بھر کر لاتی تھیں جس سے آپ کے کندھوں پر نشان پڑ گئے تھے۔ گھر میں جھاڑو دینا، کھانا پکانا اور بچوں کی پرورش سب آپ خود کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ جب کچھ قیدی آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ نبی کریم ﷺ سے ایک خادم مانگ لیا جائے تاکہ آپ کو آرام ملے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں خادم سے بہتر چیز بتاتا ہوں۔ سوتے وقت تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ اسی کو تسبیح فاطمہ کہا جاتا ہے جو آج بھی مسلمانوں کا معمول ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سادہ شادی
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ یہ شادی انتہائی سادگی سے ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہ تھا تو انہوں نے اپنی زرہ بیچ دی۔ نبی کریم ﷺ نے خود ان کا نکاح پڑھایا۔ جہیز میں صرف چند معمولی چیزیں تھیں جن میں ایک چکی، ایک مشکیزہ اور کھجور کی چھال کا بستر شامل تھا۔ یہ وہ سادگی تھی جو نبی ﷺ کے گھرانے کا شعار تھی۔ اس شادی سے حسن، حسین، محسن، زینب اور ام کلثوم پیدا ہوئے۔ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کو نبی کریم ﷺ نے جنت کے نوجوانوں کے سردار قرار دیا۔ آپ کا گھرانہ اہل بیت کے نام سے مشہور ہوا جن سے اللہ تعالیٰ نے ہر ناپاکی دور کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔
بے مثال سخاوت
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سخاوت کا ایک عظیم واقعہ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما نے نذر مانی کہ اگر ان کے بچے صحت یاب ہو گئے تو وہ تین دن روزے رکھیں گے۔ جب بچے صحت یاب ہوئے تو انہوں نے روزے رکھے۔ پہلے دن افطار کے وقت ایک مسکین دروازے پر آیا تو انہوں نے اپنا سارا کھانا اسے دے دیا اور خود پانی سے افطار کیا۔ دوسرے دن ایک یتیم آیا تو اسے کھانا دے دیا۔ تیسرے دن ایک قیدی آیا تو اسے بھی کھانا دے دیا۔ تینوں دن انہوں نے خود کچھ نہ کھایا۔ اس عظیم سخاوت پر اللہ تعالیٰ نے سورہ الدھر کی آیات نازل فرمائیں جن میں فرمایا گیا کہ وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہ آپ کی سخاوت کی وہ گواہی ہے جو قیامت تک قرآن میں محفوظ رہے گی۔
عبادت اور وفات
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت عبادت گزار تھیں۔ آپ راتوں کو طویل قیام کرتیں اور دن میں روزے رکھتیں۔ نبی کریم ﷺ کی وفات آپ کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی۔ آپ فرمایا کرتی تھیں کہ مجھ پر وہ مصیبتیں پڑی ہیں کہ اگر دنوں پر پڑتیں تو وہ راتیں بن جاتیں۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے صرف چھ ماہ بعد آپ کی بھی وفات ہو گئی۔ آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ آپ کو رات کے وقت دفن کیا جائے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کی وصیت کے مطابق رات میں آپ کی تدفین کی۔ آپ کی زندگی مختصر تھی لیکن آپ کی سیرت قیامت تک مسلمان خواتین کے لیے روشنی کا مینار رہے گی۔
سبق
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل عزت سادگی، قناعت اور تقویٰ میں ہے نہ کہ مال و دولت اور دکھاوے میں۔ باوجود اس کے کہ آپ نبی ﷺ کی بیٹی تھیں آپ نے کبھی دنیاوی آسائشوں کی خواہش نہ کی۔ آپ کی سخاوت ہمیں سکھاتی ہے کہ دوسروں کی مدد اپنی ضرورت پر مقدم رکھنی چاہیے۔ ہر مسلمان خاتون کو چاہیے کہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کو اپنا نمونہ بنائے اور اپنے گھر کو سادگی اور ایمان کا گہوارہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
MsWeb