حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی قربانی اور وفاداری
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نبی ﷺ کے ساتھ وفاداری اور اسلام کے لیے بے مثال قربانیوں کی کہانی۔
حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا مکہ مکرمہ کی معزز ترین اور مالدار ترین خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔ آپ اپنی پاکدامنی اور شرافت کی وجہ سے طاہرہ کے لقب سے مشہور تھیں۔ آپ نبی کریم ﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں اور سب سے بڑھ کر یہ اعزاز آپ کو حاصل ہے کہ آپ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی شخصیت ہیں۔ آپ نے نبی کریم ﷺ کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، اپنا سارا مال اسلام کی سربلندی پر خرچ کیا اور اپنی وفاداری کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک مسلمان خواتین کے لیے مشعل راہ رہے گی۔
نبی ﷺ سے شادی
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک کامیاب تاجر خاتون تھیں اور ان کا تجارتی کاروبار شام تک پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی امانت داری اور دیانت دیکھی تو آپ کو اپنا تجارتی نمائندہ بنا کر شام بھیجا۔ اس سفر میں نبی کریم ﷺ کی سچائی اور امانت کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت متاثر ہوئیں۔ انہوں نے اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعے نبی کریم ﷺ کو شادی کا پیغام بھیجا۔ اس وقت نبی کریم ﷺ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ شادی پچیس سال تک انتہائی خوشگوار رہی۔ آپ کے ہاں قاسم اور عبداللہ نامی دو بیٹے اور زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ نامی چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ یہ وہ گھرانہ تھا جس سے اسلام کی روشنی پھیلی۔
پہلی وحی کے وقت تسلی اور ساتھ
جب نبی کریم ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ کانپتے ہوئے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے چادر اوڑھا دو۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو چادر اوڑھائی اور جب آپ کا خوف دور ہوا تو آپ نے سارا واقعہ سنایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اس نازک موقع پر وہ تاریخی جملے کہے جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبت زدوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ پھر آپ نبی کریم ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو پرانی کتابوں کے عالم تھے۔ ورقہ نے سارا واقعہ سن کر تصدیق کی کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوتا تھا اور آپ اللہ کے نبی ہیں۔
اسلام کے لیے قربانیاں اور وفات
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا سارا مال و دولت اسلام کی خدمت میں خرچ کر دیا۔ جب کفار نے مسلمانوں کا مقاطعہ کیا اور انہیں شعب ابی طالب میں محصور کر دیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہ سخت زندگی اپنے شوہر کے ساتھ گزاری۔ تین سال تک جاری رہنے والے اس مقاطعے نے آپ کی صحت کو بہت متاثر کیا۔ نبوت کے دسویں سال آپ کی وفات ہو گئی۔ اسی سال نبی کریم ﷺ کے چچا ابو طالب کی بھی وفات ہوئی اس لیے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال کہا گیا۔ نبی کریم ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ہمیشہ یاد کرتے تھے اور ان کی سہیلیوں کا اکرام فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے نبی ﷺ کی کسی بیوی پر اتنا رشک نہ آیا جتنا خدیجہ پر آتا تھا۔ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے ان سے بہتر بیوی عطا نہیں فرمائی۔
سبق
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی مسلمان خواتین کے لیے ایک عظیم نمونہ ہے۔ آپ نے اپنے شوہر کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا، اپنا مال اسلام پر قربان کیا اور ایمان میں سب سے آگے رہیں۔ آپ کی زندگی سکھاتی ہے کہ سچی وفاداری یہ ہے کہ انسان اپنے شریک حیات کا اچھے اور برے دونوں وقتوں میں ساتھ دے۔ مال و دولت کا بہترین استعمال اللہ کے دین کی خدمت ہے۔ ہر مسلمان خاتون کو چاہیے کہ وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کو اپنا نمونہ بنائے اور اپنے گھر کو ایمان اور تقویٰ کا گہوارہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
MsWeb