حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور علمِ حدیث کی خدمت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی علم حدیث کے لیے بے مثال قربانی اور سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کی کہانی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور علمِ حدیث کی خدمت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور علمِ حدیث کی خدمت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبدالرحمن بن صخر دوسی تھا۔ آپ یمن کے قبیلے دوس سے تعلق رکھتے تھے اور سات ہجری میں خیبر کی فتح کے موقع پر مدینہ منورہ تشریف لائے۔ آپ کو ابوہریرہ اس لیے کہا جاتا تھا کہ آپ کو بلیوں سے بہت محبت تھی اور آپ اکثر ایک بلی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم حدیث کے حصول کے لیے وقف کر دی اور آپ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی ہیں۔ آپ کی زندگی علم دین کی طلب میں قربانی اور لگن کی عظیم مثال ہے۔

علم کے لیے زندگی وقف کرنا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب مدینہ آئے تو ان کے پاس نہ مال تھا نہ کوئی کاروبار۔ آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ اپنا سارا وقت نبی کریم ﷺ کی صحبت میں گزاریں گے اور آپ ﷺ کی ہر بات کو یاد کریں گے۔ آپ اصحاب صفہ میں شامل ہو گئے جو وہ غریب صحابہ تھے جو مسجد نبوی کے چبوترے پر رہتے تھے۔ آپ دن رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہتے اور آپ ﷺ کی احادیث کو غور سے سنتے۔ بھوک کی شدت میں آپ اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے لیکن نبی ﷺ کی مجلس نہیں چھوڑتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے لیے وقف کر دیا ہے جبکہ دوسرے صحابہ اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی میں مصروف رہتے تھے۔ آپ کی اسی لگن کا نتیجہ تھا کہ آپ کو وہ احادیث یاد ہوئیں جو دوسروں کو یاد نہ ہو سکیں۔

حافظے کا معجزہ اور نبی ﷺ کی دعا

ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میں آپ سے بہت سی احادیث سنتا ہوں لیکن بھول جاتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ۔ آپ نے چادر پھیلائی تو نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس میں کچھ ڈالنے کا اشارہ فرمایا اور حکم دیا کہ اسے اپنے سینے سے لگا لو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے چادر کو سمیٹ کر سینے سے لگا لیا۔ اس دن کے بعد آپ نے جو بھی حدیث سنی وہ کبھی نہ بھولے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی دعا اور معجزے کا نتیجہ تھا کہ آپ کا حافظہ اتنا مضبوط ہو گیا کہ آپ ہزاروں احادیث کو لفظ بلفظ یاد رکھتے تھے۔ آپ خود فرمایا کرتے تھے کہ اس واقعے کے بعد میں نے کوئی حدیث نہیں بھولی۔

علم حدیث کی عظیم خدمت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پانچ ہزار تین سو چوہتر احادیث مروی ہیں جو کسی بھی صحابی سے مروی احادیث کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ مدینہ منورہ میں حدیث کا درس دیتے تھے اور آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ مشہور تابعی حضرت ابن سیرین اور حضرت حسن بصری جیسے علماء آپ کے شاگردوں میں شامل تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے حافظے اور علم کی گواہی دی ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے حضرت عائشہ سے آپ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو سب سے زیادہ یاد کیا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک حدیث کی خدمت جاری رکھی اور آپ کی روایت کردہ احادیث آج صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت حدیث کی تمام کتابوں کی زینت ہیں۔

عبادت اور تقویٰ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صرف علم حدیث کے حافظ ہی نہیں بلکہ عابد و زاہد بھی تھے۔ آپ رات کو عبادت کے لیے اپنے گھر کے کام تقسیم کر لیتے تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ رات کا ایک تہائی حصہ آپ عبادت کرتے، ایک تہائی حصہ آپ کی اہلیہ اور ایک تہائی حصہ آپ کے خادم عبادت کرتے۔ آپ کثرت سے روزے رکھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے۔ آپ کی زندگی سادگی اور قناعت سے بھری ہوئی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی محبت سے بچو اور آخرت کی تیاری کرو۔ آپ کی وفات انسٹھ ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ جنت البقیع میں دفن ہیں۔

سبق

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ علم دین حاصل کرنے کے لیے قربانی اور لگن ضروری ہے۔ آپ نے بھوک اور فقر کو برداشت کیا لیکن علم کی مجلس نہیں چھوڑی۔ آج ہمارے پاس علم کے بے شمار ذرائع موجود ہیں لیکن ہماری لگن ان جیسی نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و حدیث کا علم حاصل کریں اور اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے دین کی حفاظت کا جو انتظام فرمایا وہ قیامت تک مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسی علم کی طلب عطا فرمائے۔