سچائی، امانت اور وعدہ پورا کرنے کی اسلامی کہانیاں
تین مختصر سبق آموز واقعات: ایماندار چرواہے کی امانت، سچے تاجر کی سچائی اور وعدہ پورا کرنے والے شخص کی مثال، ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیمات۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو سچائی، امانت داری اور وعدہ پورا کرنے جیسی اعلیٰ اخلاقی صفات سکھاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو، اور وعدے کو پورا کرو کیونکہ وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ آئیے ان تینوں صفات پر تین مختصر واقعات پڑھتے ہیں۔
ایماندار چرواہے کی امانت
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک بار سفر میں تھے۔ انہوں نے ایک چرواہے لڑکے کو دیکھا جو بکریاں چرا رہا تھا۔ حضرت عمر نے اسے آزمانے کے لیے کہا: بیٹے! ان بکریوں میں سے ایک بکری مجھے بیچ دو۔ لڑکے نے کہا: یہ بکریاں میری نہیں ہیں، میرے مالک کی ہیں۔ حضرت عمر نے کہا: تم اپنے مالک سے کہہ دینا کہ بھیڑیا کھا گیا، وہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔ لڑکے نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: تو اللہ کہاں ہے؟ یعنی اللہ تو دیکھ رہا ہے، میں اسے دھوکہ کیسے دوں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے جواب سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے اس کے مالک سے اس لڑکے کو خرید کر آزاد کر دیا اور فرمایا: جس کلمے نے تجھے دنیا میں آزاد کرایا ہے، وہ آخرت میں بھی تجھے آزاد کرائے گا۔ یہ ہے امانت داری کی اصل روح کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ دیکھ رہا ہے۔
سچے تاجر کی سچائی
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہو گا۔ ایک تاجر تھا جو اپنے کاروبار میں ہمیشہ سچ بولتا تھا۔ وہ گاہکوں کو مال کے عیب بتا دیتا تھا اور ناپ تول میں کبھی کمی نہ کرتا تھا۔ اس کے حریف تاجر جھوٹ بول کر اور ملاوٹ کر کے زیادہ منافع کماتے تھے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ مگر اس سچے تاجر کے گاہک دن بدن بڑھتے گئے کیونکہ لوگوں کو اس پر اعتماد تھا۔ اللہ نے اس کے رزق میں ایسی برکت دی کہ وہ اپنے حریفوں سے کہیں زیادہ کامیاب ہو گیا۔ قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے کہ ناپ تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو۔ سچائی کاروبار میں برکت لاتی ہے اور جھوٹ برکت مٹا دیتا ہے۔
وعدہ پورا کرنے کی مثال
بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جس نے دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے۔ قرض دینے والے نے کہا: گواہ لاؤ۔ اس نے کہا: اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ اس نے کہا: ضامن لاؤ۔ اس نے کہا: اللہ ہی ضامن کافی ہے۔ قرض دینے والا راضی ہو گیا اور اسے ایک مدت تک کے لیے قرض دے دیا۔ وہ شخص سمندر پار چلا گیا اور اپنا کام کیا۔ جب مدت پوری ہونے کو آئی تو اسے واپسی کے لیے کوئی کشتی نہ ملی۔ اس نے ایک لکڑی لی، اس میں ایک ہزار دینار اور ایک خط رکھا کہ یہ فلاں کا قرض ہے، پھر لکڑی کو اچھی طرح بند کر کے سمندر میں ڈال دیا اور دعا کی: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے تیرے نام پر گواہی اور ضمانت دی تھی، اب یہ قرض اس تک پہنچا دے۔ لکڑی لہروں میں بہتی ہوئی قرض دینے والے کے شہر پہنچ گئی۔ وہ ساحل پر آیا تو اسے لکڑی ملی، اس نے اسے چیرا تو دینار اور خط نکلے۔ بعد میں قرض لینے والا خود بھی ایک ہزار دینار لے کر آیا تو قرض دینے والے نے کہا: اللہ نے تمہارا قرض لکڑی کے ذریعے پہنچا دیا تھا۔ یہ ہے وعدہ پورا کرنے کا جذبہ کہ ناممکن حالات میں بھی انسان کوشش کرتا ہے۔
سبق
ان تینوں واقعات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سچائی، امانت اور وعدے کی پاسداری مومن کی پہچان ہیں۔ چرواہے لڑکے نے سکھایا کہ امانت میں خیانت نہ کرو چاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ ہو۔ سچے تاجر نے سکھایا کہ سچائی میں برکت ہے اور جھوٹ میں تباہی۔ قرض لینے والے نے سکھایا کہ وعدہ پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس میں امانت داری نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جس میں وعدے کی پاسداری نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان صفات کو اپنی زندگی میں اپنائیں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔
MsWeb