فتح مکہ کا تاریخی واقعہ

آٹھ ہجری میں مکہ کی پرامن فتح — بتوں کا خاتمہ، عام معافی کا تاریخی اعلان اور قریش کے سرداروں کا اسلام قبول کرنا۔

فتح مکہ کا تاریخی واقعہ
فتح مکہ کا تاریخی واقعہ

ہجرت کے آٹھویں سال رمضان المبارک میں وہ عظیم دن آیا جس کا مسلمان برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ بنو بکر قبیلے نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ پر رات کو حملہ کر دیا حالانکہ بنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف تھے۔ یہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ بنو خزاعہ کی فریاد پر رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی فتح کا فیصلہ فرمایا۔

تیاری اور رازداری

آپ ﷺ نے دس ہزار صحابہ کا لشکر تیار کیا اور مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستے میں آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ ملے جو مسلمان ہو چکے تھے۔ مقام مر الظہران پر ابو سفیان پکڑا گیا۔ حضرت عباس اسے آپ ﷺ کے پاس لائے۔ آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔ آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو وہ محفوظ ہے، جو اپنے گھر میں رہے وہ محفوظ ہے اور جو حرم میں داخل ہو وہ محفوظ ہے۔ حاطب بن ابی بلتعہ نے قریش کو خط لکھا تھا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے خط برآمد کر لیا جو اسے لے جا رہی تھی۔

مکہ میں پرامن داخلہ

آپ ﷺ نے لشکر کو چار دستوں میں تقسیم کیا اور حکم دیا کہ صرف وہی لڑے جو لڑنے پر مجبور کیا جائے۔ آپ ﷺ اونٹنی قصواء پر سوار مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا سر عاجزی سے جھکا ہوا تھا اور آپ سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستے کو عکرمہ اور صفوان کے ساتھیوں نے روکا تو معمولی جھڑپ ہوئی جس میں بارہ تیرہ کفار مارے گئے۔ باقی تمام دستے بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہو گئے۔ آٹھ سال پہلے جس شہر سے آپ کو نکالا گیا تھا، آج آپ فاتح کی حیثیت سے اس میں داخل ہو رہے تھے۔

بتوں کا خاتمہ اور عام معافی

آپ ﷺ خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے بتوں کو گراتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا ہے۔ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے جو سب گرا دیے گئے۔ خانہ کعبہ کی چابی عثمان بن طلحہ کو واپس کر دی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے قریش سے خطاب کیا اور وہ تاریخی اعلان فرمایا جو رہتی دنیا تک معافی کی مثال رہے گا۔ فرمایا آج تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کو ستایا، آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا اور آپ کو وطن سے نکالا تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔

اسلام قبول کرنے والے سردار

فتح مکہ کے بعد قریش کے بڑے بڑے سردار اسلام لے آئے۔ ابو سفیان اور ان کی بیوی ہند مسلمان ہوئیں۔ عکرمہ بن ابی جہل اپنی بیوی ام حکیم کے کہنے پر واپس آئے اور اسلام قبول کیا۔ انصار کو فکر ہوئی کہ اب آپ ﷺ مکہ میں ہی رہ جائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری زندگی تمہارے ساتھ ہے اور میری موت بھی تمہارے ساتھ ہوگی۔ یہ سن کر انصار رو پڑے۔

سبق

فتح مکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل بہادری طاقت کے وقت معاف کر دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کر کے انسانیت کو درس دیا کہ انتقام سے بڑی چیز عفو و درگزر ہے۔ عاجزی بھی فتح کا زیور ہے، آپ ﷺ فاتح بن کر بھی سر جھکائے ہوئے داخل ہوئے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں معافی کو اپنائیں اور کامیابی پر تکبر کے بجائے عاجزی اختیار کریں۔}