غارِ ثور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ

غار ثور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق کے تین دن — کفار کا غار کے منہ تک پہنچنا، الٰہی حفاظت اور سراقہ بن مالک کا واقعہ۔

غارِ ثور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ
غارِ ثور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ

جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو ہجرت کی اجازت دی تو آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر یہ خبر سن کر خوشی سے رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا مجھے آپ کی رفاقت نصیب ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس دن سے پہلے کسی کو خوشی سے روتے نہیں دیکھا تھا۔ یہ واقعہ دوستی اور وفاداری کی عظیم مثال ہے۔

حضرت ابوبکر کی تیاریاں

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چار ماہ پہلے سے دو بہترین اونٹنیاں تیار کر رکھی تھیں اور ہجرت کے انتظار میں تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو خبروں کے لیے، بیٹی اسماء کو کھانے کے لیے اور غلام عامر بن فہیرہ کو قدموں کے نشان مٹانے کے لیے تیار کیا تھا۔ رات کو جب آپ ﷺ تشریف لائے تو دونوں گھر کے پچھلے دروازے سے نکلے اور مکہ کے جنوب میں واقع غار ثور کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر تھا اور وہاں پہنچنا آسان نہ تھا۔

غار میں تین راتوں کا قیام

غار کے منہ پر پہنچ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے خود اندر گئے تاکہ کوئی خطرناک جانور نہ ہو۔ انہوں نے اپنی چادر پھاڑ کر غار کے سوراخ بند کیے، ایک سوراخ باقی رہ گیا جسے انہوں نے اپنے پاؤں سے بند کر دیا۔ مشہور روایت کے مطابق ایک سانپ نے ان کے پاؤں میں کاٹ لیا لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ آنے دیا جو ان کی گود میں سر رکھے سو رہے تھے۔ درد سے ان کی آنکھوں سے آنسو نکلے اور آپ ﷺ کے چہرے پر گرے تو آپ بیدار ہوئے اور اپنا لعاب دہن زخم پر لگایا جس سے درد جاتا رہا۔

کفار غار کے منہ پر اور الٰہی حفاظت

قریش نے اعلان کیا کہ جو محمد ﷺ کو زندہ یا مردہ لائے گا اسے سو اونٹ انعام ملیں گے۔ تلاش کرنے والے غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گھبرا کر کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں پر نظر ڈالے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ ﷺ نے اطمینان سے فرمایا اے ابوبکر، ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ قرآن مجید میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے کہ اللہ نے ان پر اپنی سکینہ نازل کی اور انہیں ایسے لشکروں سے مدد دی جو تمہیں نظر نہ آتے تھے۔ کفار واپس چلے گئے۔

مدینہ کی طرف روانگی اور سراقہ کا واقعہ

تین راتوں کے بعد عبد اللہ بن اریقط اونٹنیاں لے کر آیا اور قافلہ ساحلی راستے سے روانہ ہوا۔ راستے میں سراقہ بن مالک انعام کے لالچ میں گھوڑے پر پیچھا کرتے ہوئے آیا۔ جب وہ قریب پہنچا تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے امان مانگی تو آپ ﷺ نے اسے امان دی اور فرمایا کہ ایک دن تم کسرٰی کے کنگن پہنو گے۔ یہ پیشگوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پوری ہوئی جب ایران فتح ہوا اور کسرٰی کے خزانے مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ سراقہ نے وعدہ کیا کہ وہ پیچھا کرنے والوں کو واپس بھیج دے گا اور ایسا ہی کیا۔

سبق

غار ثور کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر کامل توکل کے ساتھ ساتھ مکمل منصوبہ بندی اور احتیاط بھی ضروری ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رفاقت اور قربانی دوستی اور وفاداری کی بہترین مثال ہے۔ مشکل وقت میں لا تحزن ان اللہ معنا کا یقین ہر مسلمان کے دل میں ہونا چاہیے۔ جو اللہ کے دین کے لیے نکلتا ہے، اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے، چاہے دشمن غار کے منہ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے۔