حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا واقعہ
بوڑھے نبی حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا پر اللہ نے انہیں بیٹے یحییٰ کی بشارت دی، جو نیک نبی بنے۔
حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک نیک نبی تھے جو بیت المقدس میں عبادت کرتے تھے۔ وہ بوڑھے ہو چکے تھے، ان کے بال سفید ہو گئے تھے اور ان کی اہلیہ بانجھ تھیں۔ ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ اللہ انہیں ایک نیک بیٹا عطا فرمائے جو ان کے بعد دین کی خدمت کرے اور ان کے خاندان کی نیکی کا سلسلہ جاری رکھے۔ ان کی یہ دعا سورۃ مریم میں بیان ہوئی ہے اور یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ سے مانگنے میں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
مریم کے پاس رزق دیکھ کر امید جاگی
حضرت زکریا علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے کفیل تھے۔ جب بھی وہ ان کے حجرے میں داخل ہوتے تو وہاں بے موسم کے پھل اور رزق دیکھتے۔ انہوں نے پوچھا کہ اے مریم، یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا۔ مریم نے کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، بے شک اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام کے دل میں امید جاگی کہ جو اللہ بے موسم کے پھل دے سکتا ہے وہ بوڑھے کو اولاد بھی دے سکتا ہے۔ انہوں نے وہیں اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے رب، مجھے اپنی طرف سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو دعا سننے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے میرے رب، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اور میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا۔
فرشتے کی بشارت اور نشانی
ابھی وہ محراب میں نماز پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے انہیں آواز دی کہ اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے۔ وہ اللہ کے کلمے کی تصدیق کرنے والا، سردار، پاکباز اور نیک نبی ہو گا۔ حضرت زکریا علیہ السلام حیران ہوئے اور کہا کہ اے میرے رب، میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا جبکہ مجھے بڑھاپا آ پہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ انہوں نے نشانی مانگی تو فرمایا کہ تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرو گے سوائے اشارے کے۔ چنانچہ وہ تین دن تک صرف اشاروں سے بات کرتے رہے اور اللہ کی تسبیح و تحمید میں مصروف رہے۔ یہ ان کے لیے اللہ کی قدرت کی نشانی تھی۔
یحییٰ علیہ السلام کی خصوصیات
پھر اللہ کے وعدے کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اللہ نے انہیں بچپن ہی میں حکمت عطا فرمائی اور فرمایا کہ اے یحییٰ، کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ وہ اپنی قوم میں انتہائی پرہیزگار تھے، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے اور متکبر نہ تھے۔ وہ زہد و تقویٰ کی زندہ مثال تھے، دنیا کی لذتوں سے دور رہتے اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو اللہ کی طرف بلایا اور تورات کے احکام کی پابندی کی تلقین کی۔ ان کی زندگی مختصر رہی لیکن انہوں نے حق کی خاطر اپنی جان قربان کر دی اور شہادت کا عظیم مرتبہ پایا۔ اللہ نے ان پر سلام بھیجا جس دن وہ پیدا ہوئے، جس دن وہ وفات پائیں گے اور جس دن دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دعا کی قبولیت کے لیے عمر یا حالات رکاوٹ نہیں بنتے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ سے مانگنے میں کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، حضرت زکریا علیہ السلام نے بڑھاپے میں بھی دعا کا دامن نہ چھوڑا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ نیک اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی حاجتوں کے لیے اللہ سے رجوع کریں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں۔
MsWeb