حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ

حضرت مریم علیہا السلام کے ہاں بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش اور گہوارے میں ان کا کلام۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ

حضرت مریم علیہا السلام ایک پاکباز اور عبادت گزار خاتون تھیں جنہیں اللہ نے تمام جہان کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ فرشتے نے انہیں بشارت دی کہ اللہ تمہیں اپنے کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا۔ یہ ایک ایسا عظیم معجزہ تھا جو اللہ کی قدرت کی روشن نشانی بنا اور جس کا ذکر سورۃ مریم میں تفصیل سے آیا ہے۔ اس واقعے سے ہمیں اللہ کی بے پایاں قدرت کا اندازہ ہوتا ہے۔

فرشتے کی بشارت اور مریم کی حیرت

فرشتے نے کہا کہ وہ دنیا اور آخرت میں معزز اور مقربین میں سے ہو گا۔ وہ گہوارے میں اور بڑی عمر میں لوگوں سے بات کرے گا اور نیک لوگوں میں سے ہو گا۔ حضرت مریم علیہا السلام نے حیرت سے کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی مرد نے چھوا تک نہیں۔ فرشتے نے کہا کہ اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔ اللہ اسے کتاب، حکمت، تورات اور انجیل سکھائے گا اور اسے بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ یہ سن کر حضرت مریم علیہا السلام نے اللہ کے فیصلے کو قبول کر لیا اور اللہ کے حکم سے وہ حاملہ ہو گئیں۔

تنہائی میں ولادت کا مرحلہ

جب ولادت کا وقت قریب آیا تو حضرت مریم علیہا السلام لوگوں سے دور ایک تنہا جگہ چلی گئیں۔ دردِ زہ نے انہیں کھجور کے درخت کے تنے کی طرف لے جایا۔ اس تکلیف کے عالم میں انہوں نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔ اسی وقت ان کے نیچے سے آواز آئی کہ غم نہ کرو، تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ، وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا۔ تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر تم کسی انسان کو دیکھو تو کہہ دینا کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، پس آج میں کسی انسان سے بات نہ کروں گی۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی مدد اور تسلی تھی۔ پھر وہ نومولود بچے کو لے کر اپنی قوم کے پاس آئیں۔

قوم کے طعنے اور گہوارے میں کلام

قوم نے انہیں دیکھ کر کہا کہ اے مریم، تم نے تو بہت برا کام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن، تمہارا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تمہاری ماں بدکار تھی۔ حضرت مریم علیہا السلام نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کیسے بات کریں جو گہوارے میں بچہ ہے۔ اسی وقت اللہ کے حکم سے نومولود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ رہوں۔ اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔ اور مجھ پر سلام ہو جس دن میں پیدا ہوا، جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔ یہ معجزہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور مریم علیہا السلام کی پاکدامنی ثابت ہو گئی۔

سبق

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ بغیر باپ کے بھی بچہ پیدا کر سکتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی مشکل وقت میں مدد فرماتا ہے، جیسے اس نے حضرت مریم علیہا السلام کے لیے چشمہ اور کھجوروں کا انتظام فرمایا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کی پاکدامنی کی گواہی خود اللہ نے دی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی قدرت پر مکمل ایمان رکھیں اور مشکل میں اسی سے مدد مانگیں۔