حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کی کہانی
طاقتور قوم عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت، ان کے انکار اور تیز آندھی کے عذاب سے ہلاکت کی کہانی۔
قوم عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی جو یمن کے علاقے احقاف میں رہتی تھی۔ یہ لوگ قد آور، طاقتور اور مالدار تھے۔ انہوں نے ارم نامی ایک عظیم شہر بنایا تھا جس کی مثال کہیں نہیں ملتی تھی۔ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا، ارم والے جو ستونوں والے تھے جن کی مثل شہروں میں پیدا نہیں کی گئی۔ لیکن اپنی طاقت کے نشے میں وہ اللہ کو بھول گئے اور بتوں کی پوجا کرنے لگے۔
ہود علیہ السلام کی دعوت
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں۔ میں تمہارے لیے ایک امانت دار نصیحت کرنے والا ہوں۔ میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا۔ انہوں نے قوم کو یاد دلایا کہ اللہ نے تمہیں نوح کی قوم کے بعد ان کا جانشین بنایا اور تمہیں جسمانی طاقت میں بڑھایا، تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ انہوں نے قوم کو استغفار کی تلقین کی اور کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو، وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا اور تمہاری طاقت میں مزید اضافہ کرے گا۔
تکبر اور انکار
قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمیں ہمارے معبودوں سے پھیرنے آئے ہو۔ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ انہیں اپنی طاقت پر اتنا غرور تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے۔ کیا وہ نہیں دیکھتے تھے کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے۔ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور ہر سرکش ظالم کی پیروی کرتے رہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی قوم سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
سات راتیں اور آٹھ دن کی آندھی
پھر اللہ کا عذاب آیا۔ پہلے قحط پڑا، پھر ایک سیاہ بادل ان کی وادی کی طرف بڑھا۔ وہ خوش ہوئے کہ یہ بارش والا بادل ہے، لیکن وہ عذاب تھا۔ ایک تیز و تند آندھی چلی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی۔ یہ ہوا اتنی سخت تھی کہ لوگوں کو اس طرح اکھاڑ پھینکتی جیسے وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ ان کے مضبوط محل اور بلند عمارتیں انہیں نہ بچا سکیں۔ پوری قوم تباہ ہو گئی اور صرف حضرت ہود علیہ السلام اور ایمان والے اللہ کی رحمت سے محفوظ رہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں ایک منحوس دن میں تیز آندھی بھیجی تاکہ انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔
سبق
قوم عاد کے واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ طاقت اور دولت پر تکبر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ سب اللہ کی عطا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور نبی کی تکذیب کا انجام ہلاکت ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ استغفار اور توبہ سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور رزق میں برکت ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی طاقت کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کریں بلکہ اس کا شکر ادا کریں۔
MsWeb