حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا واقعہ

حضرت ایوب علیہ السلام کی طویل بیماری میں بے مثال صبر اور اللہ کی طرف سے شفا و بحالی کا ایمان افروز واقعہ۔

حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا واقعہ
حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا واقعہ

حضرت ایوب علیہ السلام کا شمار اللہ کے ان عظیم پیغمبروں میں ہوتا ہے جنہیں صبر کی اعلیٰ ترین مثال قرار دیا گیا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت چاہے کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، اللہ سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے صبر کا واقعہ ہر دکھی اور بیمار انسان کے لیے امید کی کرن ہے۔

نعمتوں بھری زندگی اور آزمائش کا آغاز

حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ نے بے شمار نعمتیں عطا کی تھیں۔ ان کے پاس وسیع زمینیں، بڑے بڑے باغات، بے شمار مویشی اور ایک بڑا خاندان تھا۔ وہ اللہ کے شکرگزار بندے تھے اور اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ غریبوں کی مدد کرتے، یتیموں کا خیال رکھتے اور ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ پھر اللہ نے انہیں آزمانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے ان کی تمام دولت چھن گئی۔ باغات اجڑ گئے، مویشی مر گئے اور زمینیں ویران ہو گئیں۔ پھر ان کے بیٹے ایک ایک کر کے وفات پا گئے۔ اس کے بعد ان کے جسم کو ایک ایسی بیماری لگ گئی جس سے ان کا پورا بدن متاثر ہوا۔ وہ اتنے کمزور ہو گئے کہ چل پھر بھی نہ سکتے تھے۔ لوگ ان سے دور بھاگنے لگے۔ صرف ان کی وفادار بیوی ان کی خدمت میں لگی رہی۔

طویل بیماری میں بے مثال صبر

حضرت ایوب علیہ السلام برسوں تک اس شدید بیماری میں مبتلا رہے۔ روایات کے مطابق یہ آزمائش اٹھارہ سال تک جاری رہی۔ اتنے لمبے عرصے میں انہوں نے ایک بار بھی شکوہ نہیں کیا۔ نہ انہوں نے اللہ سے شکایت کی اور نہ لوگوں کے سامنے روئے۔ ان کی زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر رہتا تھا۔ جب ان کی بیوی نے کہا کہ آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ آپ کو شفا دے، تو حضرت ایوب نے فرمایا کہ میں نے ستر سال عافیت میں گزارے ہیں، کیا میں ستر سال مصیبت میں صبر نہیں کر سکتا۔ ان کا یہ جواب صبر کی انتہا تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ نے مجھے جو نعمتیں دی تھیں، وہ اسی کی تھیں، اور اب جو آزمائش ہے وہ بھی اسی کی طرف سے ہے۔ میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ ان کے اس صبر کو دیکھ کر فرشتے بھی حیران تھے۔

اللہ کے حضور دعا اور شفا کا نزول

آخرکار حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ کے حضور دعا کی۔ مگر ان کی دعا میں بھی شکوہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے میرے رب، مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی انہوں نے اپنی تکلیف کا ذکر تو کیا مگر اللہ سے کوئی مطالبہ نہیں کیا، صرف اس کی رحمت کا واسطہ دیا۔ اللہ کو اپنے بندے کی یہ عاجزی بہت پسند آئی۔ اللہ نے وحی فرمائی کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ حضرت ایوب نے پاؤں مارا تو وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے غسل کرو اور پیو۔ حضرت ایوب نے ایسا ہی کیا تو ان کی تمام بیماری دور ہو گئی۔ ان کا جسم پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت اور توانا ہو گیا۔ ان کی بیوی جب واپس آئی تو انہیں پہچان نہ سکی۔ یہ اللہ کی قدرت کا عظیم مظاہرہ تھا کہ برسوں کی بیماری ایک چشمے کے پانی سے ختم ہو گئی۔

نعمتوں کی بحالی اور دگنا اجر

اللہ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر اپنی رحمت کی بارش کر دی۔ ان کی دولت واپس لوٹ آئی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ہو گئی۔ ان کے باغات پھر سے ہرے بھرے ہو گئے اور مویشیوں کی تعداد بڑھ گئی۔ اللہ نے ان کے بچے بھی واپس عطا کیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے۔ قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کی تکلیف دور کر دی اور انہیں ان کے اہل خانہ عطا کیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی، اپنی رحمت سے اور عبادت گزاروں کے لیے نصیحت کے طور پر۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے ایک قسم کھائی تھی کہ صحت یاب ہو کر اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے، کیونکہ ایک بار انہوں نے کوئی بات کہی تھی۔ اللہ نے ان کی قسم پوری کرنے کا ایسا طریقہ بتایا کہ سو تنکوں کا ایک مٹھا بنا کر ایک بار مار دیں۔ اس طرح ان کی قسم بھی پوری ہو گئی اور بیوی کو تکلیف بھی نہ پہنچی۔ یہ اللہ کی اپنے نیک بندے پر خصوصی مہربانی تھی۔

سبق

حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں کئی قیمتی سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مصیبت میں صبر کرنا مومن کی شان ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ دوسرا یہ کہ شکوہ کرنے کے بجائے اللہ کی رحمت کا واسطہ دے کر دعا مانگنی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ آزمائش ایمان کی پختگی کا ذریعہ ہے، اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے۔ چوتھا یہ کہ اللہ سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ ایک لمحے میں حالات بدل سکتا ہے۔ پانچواں سبق یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے، اللہ اسے دنیا میں بھی دگنا اجر دیتا ہے اور آخرت میں بھی۔ ہر بیمار اور مصیبت زدہ کو حضرت ایوب کے صبر کو یاد رکھنا چاہیے۔