حضرت نوح علیہ السلام اور طوفان کی کہانی

حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سالہ تبلیغ، کشتی کی تیاری اور عظیم طوفان کا مکمل واقعہ۔

حضرت نوح علیہ السلام اور طوفان کی کہانی
حضرت نوح علیہ السلام اور طوفان کی کہانی

حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے وہ عظیم پیغمبر ہیں جنہیں اولوالعزم رسولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک اللہ کی توحید کی دعوت دی۔ ان کی زندگی صبر، استقامت اور اللہ کے حکم کی کامل اطاعت کی روشن مثال ہے۔ ان کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہدایت کی ذمہ داری نبھانا پیغمبر کا کام ہے، مگر ایمان دینا صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔

ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرستی میں مبتلا تھی۔ وہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نام کے بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ حضرت نوح نے انہیں دن رات سمجھایا۔ وہ صبح و شام، علانیہ اور پوشیدہ ہر طرح سے انہیں دعوت دیتے رہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم، اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مگر قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ تو ہم جیسا انسان ہے جو ہم پر بڑائی چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے اوڑھ لیے تاکہ ان کی بات نہ سننی پڑے۔ وہ حضرت نوح کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ ہم پر عذاب لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ ساڑھے نو سو سال کی مسلسل دعوت کے بعد بھی صرف چند لوگ ایمان لائے۔ حضرت نوح نے اللہ سے دعا کی کہ اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا مگر میری دعوت نے ان کی دوری ہی بڑھائی۔ اب زمین پر کافروں میں سے کوئی بھی باقی نہ چھوڑ۔

کشتی کی تیاری اور قوم کا مذاق

اللہ نے حضرت نوح کی دعا قبول فرمائی اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی میں کشتی بناؤ۔ حضرت نوح نے خشک زمین پر کشتی بنانی شروع کی۔ قوم کے لوگ وہاں سے گزرتے تو ہنستے اور مذاق اڑاتے کہ دیکھو، یہ شخص اب بڑھیا ہو کر بڑھئی بن گیا ہے، خشکی پر کشتی بنا رہا ہے۔ حضرت نوح فرماتے کہ آج تم ہم پر ہنستے ہو، کل ہم تم پر ہنسیں گے جب تمہیں عذاب کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور سے پانی ابلنے لگے تو ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا اور اپنے اہل خانہ کو کشتی میں سوار کر لینا، سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے فیصلہ ہو چکا ہے، اور جو ایمان لائے ہیں انہیں بھی ساتھ لے لینا۔ حضرت نوح نے اللہ کے حکم کے مطابق کشتی تیار کی اور تمام انتظامات مکمل کیے۔

عظیم طوفان کا آنا

پھر وہ دن آیا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ زمین کے چشموں سے پانی ابلنے لگا اور آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ دونوں پانی مل کر ایک عظیم طوفان بن گئے۔ حضرت نوح نے ایمان والوں کو کشتی میں سوار کر لیا اور فرمایا کہ اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔ کشتی پہاڑوں جیسی لہروں میں تیرنے لگی۔ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو کافروں کے ساتھ تھا۔ انہوں نے پکارا کہ اے میرے بیٹے، ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔ بیٹے نے کہا کہ میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ اتنے میں ایک بڑی لہر دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور بیٹا ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔ حضرت نوح کا دل ٹوٹ گیا مگر اللہ نے فرمایا کہ وہ تمہارے اہل میں سے نہیں، اس کا عمل نیک نہیں تھا۔

طوفان کا تھمنا اور نئی زندگی

طوفان کئی دن تک جاری رہا۔ پانی نے پوری زمین کو ڈھانپ لیا اور پہاڑوں کی چوٹیاں بھی ڈوب گئیں۔ کافر قوم کا ایک ایک فرد ہلاک ہو گیا۔ پھر اللہ نے حکم دیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ پانی اترنے لگا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔ حضرت نوح اور ان کے ساتھی سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے نوح، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اترو۔ یوں ایمان والوں کی ایک نئی نسل نے زمین پر زندگی کا آغاز کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا اور باقی زندگی اللہ کی عبادت میں گزاری۔ ان کی اولاد سے نسل انسانی پھیلی، اسی لیے انہیں آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔

سبق

حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں کئی عظیم سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ نیکی کی دعوت میں کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے، چاہے سالوں گزر جائیں۔ دوسرا یہ کہ نجات صرف ایمان اور اللہ کی اطاعت میں ہے، خونی رشتے کام نہیں آتے، جیسا کہ حضرت نوح کے بیٹے کے ساتھ ہوا۔ تیسرا یہ کہ اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکتا، نہ پہاڑ نہ کوئی طاقت۔ چوتھا سبق یہ ہے کہ مذاق اڑانے والوں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ پانچواں یہ کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہی کامیابی ہے، چاہے وہ حکم عقل کے ظاہری تقاضوں کے خلاف ہی کیوں نہ لگے، جیسے خشکی پر کشتی بنانا۔