حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی قربانی کی کہانی
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دین کے لیے دولت قربان کرنے اور احد میں شہادت کی ایمان افروز کہانی۔
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے امیر ترین اور خوبصورت نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنو عبدالدار سے تھا اور آپ اپنی خوش لباسی اور نفاست میں پورے مکہ میں مشہور تھے۔ لوگ آپ کے عطر کی خوشبو سے پہچان لیتے تھے کہ مصعب گزرا ہے۔ آپ اپنی والدہ کے بہت لاڈلے تھے اور ہر طرح کی آسائش آپ کو میسر تھی۔ لیکن جب آپ کے دل میں اسلام کی روشنی داخل ہوئی تو آپ نے یہ ساری دنیاوی آسائشیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے قربان کر دیں۔ آپ کی زندگی نوجوانوں کے لیے اس بات کا روشن نمونہ ہے کہ دین کی خاطر دنیا کی ہر چیز کو ٹھکرایا جا سکتا ہے۔
اسلام قبول کرنا اور ماں کی ناراضی
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور میں چھپ کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب ان کی والدہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ سخت ناراض ہوئیں۔ انہوں نے آپ کو قید کر دیا اور کھانا پینا بند کر دیا تاکہ آپ اسلام سے پھر جائیں۔ لیکن آپ اپنے ایمان پر ڈٹے رہے۔ آخر آپ قید سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تو آپ کی حالت بالکل بدل چکی تھی۔ وہ نوجوان جو کبھی مکہ میں سب سے بہتر لباس پہنتا تھا اب ایک ہی پرانے کپڑے میں گزارا کرتا تھا۔ ایک دن نبی کریم ﷺ نے آپ کو اس حالت میں دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور فرمایا کہ میں نے مکہ میں مصعب سے زیادہ ناز و نعم میں پلا ہوا اور بہتر لباس والا کوئی نوجوان نہیں دیکھا تھا اور آج دیکھو کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے اسے کیا بنا دیا ہے۔ یہ آپ کی عظیم قربانی کی گواہی تھی۔
مدینہ کے پہلے سفیر اور داعی
بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد نبی کریم ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو یثرب یعنی مدینہ بھیجا تاکہ وہ وہاں کے مسلمانوں کو قرآن سکھائیں اور اسلام کی دعوت دیں۔ آپ اسلام کے پہلے سفیر اور مبلغ تھے۔ آپ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے اور بڑی حکمت کے ساتھ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ آپ کی محنت اور اخلاص کا نتیجہ یہ نکلا کہ مدینہ کے بڑے سردار سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما آپ کی دعوت پر مسلمان ہو گئے۔ ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد مدینہ میں اسلام تیزی سے پھیلا اور ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کا ہر گھر اسلام کی روشنی سے منور ہو چکا تھا۔ اس طرح حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی راہ ہموار کی اور آپ کو اس عظیم کارنامے کا سہرا جاتا ہے۔
غزوہ احد میں عظیم شہادت
غزوہ احد کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے اسلامی لشکر کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ جب جنگ میں مسلمانوں کو آزمائش کا سامنا ہوا تو آپ جھنڈا لے کر ڈٹے رہے۔ دشمن کے ایک سپاہی نے آپ کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا تو آپ نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا۔ جب بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا تو آپ نے اپنے کٹے ہوئے بازوؤں سے جھنڈے کو سینے سے لگا لیا اور اسے گرنے نہ دیا۔ اسی حالت میں آپ شہید ہو گئے۔ جب آپ کی تدفین کا وقت آیا تو آپ کے پاس کفن کے لیے ایک چھوٹی سی چادر کے سوا کچھ نہ تھا۔ جب اس سے آپ کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے رہ جاتے اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ننگا رہ جاتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سر ڈھانپ دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ یہ منظر دیکھ کر نبی کریم ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ مومنوں میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھایا۔
سبق
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی زندگی نوجوانوں کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ جوانی کی طاقت اور صلاحیتیں اللہ کے دین کی خدمت میں لگانی چاہئیں۔ آپ نے مال و دولت، آرام و آسائش اور ماں کی محبت سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دیا۔ دین کی دعوت میں حکمت اور نرمی سے کام لینا بھی آپ کی زندگی کا اہم سبق ہے۔ جس نوجوان نے اپنی جوانی اللہ کی راہ میں وقف کر دی وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ جیسے جذبہ ایمانی اور قربانی کی توفیق عطا فرمائے۔
MsWeb