تین آدمیوں اور غار میں پھنس جانے کا واقعہ
بنی اسرائیل کے تین مسافر بارش سے بچنے کے لیے غار میں داخل ہوئے تو ایک چٹان نے منہ بند کر دیا۔ ہر ایک نے اپنی خالص نیکی کا واسطہ دے کر دعا کی اور چٹان ہٹتی گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنی اسرائیل کے تین نیک مسافروں کا ایک حیرت انگیز اور سبق آموز واقعہ سنایا۔ یہ تینوں شخص ایک سفر پر تھے کہ اچانک تیز بارش اور طوفان نے انہیں گھیر لیا۔ جان بچانے کے لیے وہ قریبی پہاڑ کے ایک غار میں داخل ہو گئے۔ ابھی وہ سانس بھی نہ لے پائے تھے کہ پہاڑ سے ایک بڑی چٹان لڑھکتی ہوئی آئی اور غار کے منہ پر اس طرح آ گری کہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔ تینوں نے مل کر پوری طاقت سے چٹان کو ہٹانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔ اب ان کے سامنے صرف موت تھی یا پھر اللہ تعالیٰ کی مدد۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور طے پایا کہ ہر شخص اپنی اس نیکی کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کرے جو اس نے خالص اللہ کی رضا کے لیے کی ہو۔
پہلے شخص کی نیکی: والدین کی خدمت
پہلے شخص نے دعا کی: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میری عادت تھی کہ میں ان سے پہلے اپنے بیوی بچوں اور خادموں کو دودھ نہیں پلاتا تھا۔ ایک دن میں اپنی بکریوں کو لے کر دور چراگاہ میں چلا گیا اور شام کو دیر سے لوٹا۔ میں نے بکریوں کا دودھ دوہا اور حسب معمول پہلے اپنے والدین کے پاس لے کر آیا تو دیکھا کہ وہ سو چکے ہیں۔ میں نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی یہ پسند کیا کہ ان سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلا دوں۔ چنانچہ میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے سرہانے کھڑا رہا اور میرے چھوٹے بچے بھوک سے میرے قدموں میں روتے رہے۔ میں اسی حالت میں صبح تک کھڑا رہا یہاں تک کہ فجر کا وقت ہو گیا اور میرے والدین جاگ اٹھے، تب میں نے انہیں دودھ پلایا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے اور ہمیں اس مصیبت سے نجات دے۔ یہ دعا سنتے ہی چٹان تھوڑی سی اپنی جگہ سے سرک گئی مگر اتنی نہیں کہ وہ باہر نکل سکتے۔
دوسرے شخص کی نیکی: گناہ سے بچنا
دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جسے میں سب سے زیادہ چاہتا تھا، ایسے جیسے مرد عورت کو چاہتا ہے۔ میں نے کئی بار اس سے اپنی خواہش پوری کرنے کی درخواست کی مگر اس نے ہمیشہ انکار کر دیا۔ پھر ایک سال سخت قحط پڑا تو وہ مجبور ہو کر میرے پاس آئی۔ میں نے اسے ایک سو بیس دینار اس شرط پر دیے کہ وہ میری خواہش پوری کرے گی۔ وہ مجبوری میں راضی ہو گئی۔ جب میں اس کے پاس بیٹھا اور اس پر پوری طرح قابو پا چکا تھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور مہر کو ناجائز طریقے سے مت توڑ۔ یہ الفاظ سنتے ہی میں کانپ اٹھا۔ میں فوراً اس سے اٹھ کھڑا ہوا حالانکہ وہ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تھی، اور جو دینار میں نے اسے دیے تھے وہ بھی اسی کے پاس چھوڑ دیے۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیرے خوف اور تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس مصیبت کو ہم سے دور کر دے۔ اس دعا کے بعد چٹان مزید سرک گئی مگر ابھی بھی باہر نکلنے کی گنجائش پیدا نہ ہوئی۔
تیسرے شخص کی نیکی: امانت داری
تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! میں نے ایک بار کچھ مزدور کام پر رکھے تھے۔ کام ختم ہونے پر میں نے سب کو ان کی مزدوری دے دی سوائے ایک شخص کے جو اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو ضائع نہیں کیا بلکہ اسے کاروبار میں لگایا۔ اللہ نے اس میں برکت دی یہاں تک کہ وہ بڑھ کر بہت سا مال بن گئی۔ کافی عرصے بعد وہ شخص واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے اسے کہا: یہ جو اونٹ، گائیں، بکریاں اور غلام تم دیکھ رہے ہو، یہ سب تمہاری اسی مزدوری سے بڑھا ہوا مال ہے، سب کا سب لے جاؤ۔ اس نے حیران ہو کر کہا: اے اللہ کے بندے! میرا مذاق مت اڑاؤ۔ میں نے کہا: میں مذاق نہیں کر رہا، یہ سب تمہارا حق ہے۔ چنانچہ اس نے وہ سارا مال لے لیا اور کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو اس چٹان کو ہم سے ہٹا دے۔
نجات اور چٹان کا ہٹنا
جیسے ہی تیسرے شخص کی دعا مکمل ہوئی، چٹان پوری طرح اپنی جگہ سے ہٹ گئی اور غار کا منہ کھل گیا۔ تینوں مسافر خوشی خوشی غار سے باہر نکل آئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے ان کی خالص نیت سے کی گئی نیکیوں کے صدقے انہیں موت کے منہ سے بچا لیا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے اور اس سے نیکی کی عظیم طاقت کا پتہ چلتا ہے۔
سبق
اس واقعے سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں۔ پہلا یہ کہ خالص نیت سے کی گئی نیکی اللہ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ دوسرا یہ کہ والدین کی خدمت، گناہ سے بچنا اور امانت داری ایسے عظیم اعمال ہیں جو مشکل ترین وقت میں بھی انسان کے کام آتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ نیک اعمال کا واسطہ دے کر دعا مانگنا جائز اور مستحب ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں تاکہ مصیبت کے وقت ہم بھی انہی نیکیوں کا واسطہ دے کر اللہ سے مدد مانگ سکیں۔
MsWeb